السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
955. -- باب: من قال: لا ينقض القائم من الليل وتره
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے کہا: ”رات کو قیام کرنے والا اپنے وتر کو نہ توڑے گا“۔
حدیث نمبر: 4844
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ قَالَ: زَارَنَا طَلْقُ بْنُ عَلِيٍّ فِي يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ، وَأَمْسَى عِنْدَنَا، وَأَفْطَرَ ثُمَّ قَامَ بِنَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَأَوْتَرَ بِنَا، ثُمَّ انْحَدَرَ إِلَى مَسْجِدِهِ ⦗٥٣⦘ فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ، حَتَّى إِذَا بَقِيَ الْوِتْرُ قَدَّمَ رَجُلًا، فَقَالَ: أَوْتِرْ بِأَصْحَابِكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ".
عبداللہ بن بدر، قیس بن طلق سے نقل فرماتے ہیں کہ طلق بن علی رضی اللہ عنہ رمضان میں ایک دن ہمارے پاس آئے، انہوں نے ہمارے پاس افطاری کی، رات کا قیام کیا اور وتر ہمارے ساتھ پڑھے، پھر اپنی مسجد کی طرف پلٹے، انہوں نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی اور ان میں سے ایک شخص کو وتر کے لیے آگے کر دیا کہ اپنے ساتھیوں کو وتر پڑھاؤ، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ «لَا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ» ”ایک رات میں دو وتر نہیں ہوتے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4844]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابوداؤد 1439»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4844 in Urdu