السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
120. -- باب: البول قاعدا
-- باب: بیٹھ کر پیشاب کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 490
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ الْمَاسَرْجِسِيُّ، نا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ جَالِسَيْنِ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ دَرَقَةٌ، فَبَالَ وَهُوَ جَالِسٌ، فَتَكَلَّمْنَا فِيمَا بَيْنَنَا، فَقُلْنَا: يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ، فَأَتَانَا فَقَالَ:" أَمَا تَدْرُونَ مَا لَقِيَ صَاحِبُ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ كَانَ إِذَا أَصَابَهُمْ بَوْلٌ قَرَضُوهُ، فَنَهَاهُمْ، فَتَرَكُوهُ، فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ". زَادَ فِيهِ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُهُ: فَاسْتَتَرَ بِهَا، فَبَالَ وَهُوَ جَالِسٌ.
عبد الرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ڈھال تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر پیشاب کیا، ہم نے آپس میں بات کی کہ یہ ایسے پیشاب کر رہے ہیں جیسے عورت پیشاب کرتی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس واپس آئے اور فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص کو کیا پیش آیا؟ جب ان کو پیشاب لگ جاتا تو اس حصے کو کاٹ دیتے، تو اس شخص نے انھیں منع کیا، پھر انھوں نے اس کو چھوڑ دیا تو اسے اس کی قبر میں عذاب دیا گیا۔“
(ب) ابن عیینہ وغیرہ نے یہ الفاظ مزید بیان کیے ہیں کہ آپ نے اس کے ساتھ پردہ کیا اور بیٹھ کر پیشاب کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 490]
(ب) ابن عیینہ وغیرہ نے یہ الفاظ مزید بیان کیے ہیں کہ آپ نے اس کے ساتھ پردہ کیا اور بیٹھ کر پیشاب کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 490]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 22»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 490 in Urdu