السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
979. -- باب: ما جاء من التشديد في ترك الجماعة من غير عذر
-- باب: بغیر عذر کے باجماعت نماز ترک کرنے پر وارد شدہ سختی اور وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 4952
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ الْحَرْبِيُّ، فِي مَسْجِدِ الْحَرْبِيَّةِ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو الْعُمَيْسِ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْأَقْمَرِ يَذْكُرُ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ:" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللهَ غَدًا مُسْلِمًا فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ، فَإِنَّ اللهَ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَى، وَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى، وَلَوْ أَنَّكُمْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ كَمَا يُصَلِّي هَذَا الْمُتَخَلِّفُ فِي بَيْتِهِ لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سَنَةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ، ثُمَّ يَعْمَدُ إِلَى مَسْجِدٍ مِنْ هَذِهِ الْمَسَاجِدِ إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا حَسَنَةً، وَرَفَعَهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومٌ نِفَاقُهُ، وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يُؤْتَى بِهِ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ الْفَضْلِ بْنِ دُكَيْنٍ.
ابواحوص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس کو پسند ہو کہ وہ کل اللہ سے مسلمان ہونے کی حالت میں ملاقات کرے تو وہ ان نمازوں پر محافظت کرے۔ جب بھی ان کی اذان دی جائے۔ کیونکہ اللہ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدایت کے طریقے مقرر کیے ہیں اور یہ ہدایت کے طریقوں میں سے ہیں۔ اگر تم ان کو اپنے گھروں میں پڑھنا شروع کر دو جیسے یہ نماز سے پیچھے رہنے والے ہیں تو تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت چھوڑ بیٹھو گے۔ اگر تم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑ دیا تو گمراہ ہو جاؤ گے۔ جو شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر ان مساجد میں سے کسی مسجد کی طرف آتا ہے تو اللہ اس کے ہر قدم کے بدلے نیکی لکھ دیتے ہیں اور اس کا ہر درجہ بلند کر دیتے ہیں اور ایک غلطی مٹا دیتے ہیں اور ان نمازوں سے پیچھے صرف منافق ہی رہتا تھا جن کا نفاق واضح ہوتا تھا جب کہ مومن مرد کو آدمیوں کے درمیان سہارا دے کر لایا جاتا اور صف میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 4952]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 654»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 4952 in Urdu