السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
988. -- باب: الجماعة في مسجد قد صلي فيه إذا لم يكن فيها تفرق الكلمة
-- باب: اس مسجد میں جماعت کروانے کا بیان جس میں نماز پڑھی جا چکی ہو بشرطیکہ اس میں انتشار کا اندیشہ نہ ہو۔
حدیث نمبر: 5016
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَوْذَبٍ بِوَاسِطَ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ:" جَاءَنَا أَنَسٌ وَقَدْ صَلَّيْنَا، فَأَذَّنَ وَأَقَامَ وَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ". وَعَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ كَرِهَهُ. قَالَ الشَّيْخُ: كَرَاهِيَةُ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ مَحْمُولَةٌ عَلَى مَوْضِعٍ يَكُونُ الْجَمَاعَةُ فِيهِ بَعْدَ أَنْ صُلِّيَ تَفَرُّقُ الْكَلِمَةِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابو عثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس انس رضی اللہ عنہ آئے اور ہم نے نماز پڑھ لی تھی، انہوں نے اذان اور اقامت کہی اور اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی۔
یونس، حسن رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ وہ اسے ناپسند کرتے تھے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حسن بصری رحمہ اللہ کی ناپسندیدگی اس جگہ پر محمول ہے جہاں نماز ہو جانے کے بعد جماعت کروانا لوگوں میں تفرقہ کا سبب ہو۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5016]
یونس، حسن رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ وہ اسے ناپسند کرتے تھے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حسن بصری رحمہ اللہ کی ناپسندیدگی اس جگہ پر محمول ہے جہاں نماز ہو جانے کے بعد جماعت کروانا لوگوں میں تفرقہ کا سبب ہو۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5016]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ عبد الرزاق 3418»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 5016 in Urdu