السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
995. -- باب: الدليل على أن أكل ذلك غير حرام
-- باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ ان چیزوں کا کھانا حرام نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 5058
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ مِنْ طَعَامٍ بَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِقَصْعَةٍ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهَا فِيهَا ثُومٌ، فَأَتَاهُ أَبُو أَيُّوبَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَحَرَامٌ هُوَ؟ قَالَ:" لَا، وَلَكِنِّي كَرِهْتُهُ لِرِيحِهِ". قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا كَرِهْتَ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانا کھاتے اور بچا ہوا کھانا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیتے۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھانے کا پیالہ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ بھی نہیں کھایا، کیونکہ اس میں لہسن تھا۔ ابو ایوب رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حرام نہیں، لیکن میں اس کو بو کی وجہ سے ناپسند کرتا ہوں۔“ ابو ایوب رضی اللہ عنہ کہنے لگے: پھر میں بھی ناپسند کرتا ہوں جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5058]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2053»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 5058 in Urdu