السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
995. -- باب: الدليل على أن أكل ذلك غير حرام
-- باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ ان چیزوں کا کھانا حرام نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 5061
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، وَغَيْرُهُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ:" أَكَلْتُ الثُّومَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُ الْمَسْجِدَ وَقَدْ سُبِقْتُ بِرَكْعَةٍ، فَدَخَلْتُ مَعَهُمْ فِي الصَّلَاةِ فَوَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِيحَهُ فَقَالَ:" مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْخَبِيثَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا حَتَّى يَذْهَبَ رِيحُهَا". فَأَتْمَمْتُ صَلَاتِي، فَلَمَّا سَلَّمْتُ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَمَا أَعْطَيْتَنِي يَدَكَ، فَنَاوَلَنِي يَدَهُ، فَأَدْخَلْتُهَا فِي كُمِّي حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى صَدْرِي فَوَجَدَهُ مَعْصُوبًا، فَقَالَ:" إِنَّ لَكَ عُذْرًا، أَوْ أَرَى لَكَ عُذْرًا".
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں لہسن کھایا، پھر میں مسجد میں آیا تو نماز کی ایک رکعت ہو چکی تھی، میں نماز میں شامل ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بو محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اس خبیث درخت سے کھائے وہ ہماری نماز کی جگہ کے قریب نہ آئے جب تک اس کی بو ختم نہ ہو جائے۔“ میں نے نماز پوری کی، جب میں نے سلام پھیرا تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ مجھے پکڑائیں گے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مجھے پکڑا دیا تو میں نے اسے اپنی قمیص کی آستین میں داخل کر کے اپنے سینے تک لے گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پٹی بندھی ہوئی پائی تو فرمایا: ”تیرا عذر ہے۔“ یا فرمایا: ”میں سمجھتا ہوں کہ تیرا عذر ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5061]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 4/252»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 5061 in Urdu