السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1000. -- باب: ما روي في صلاة المأموم قائما، وإن صلى الإمام جالسا، وما يستدل به على نسخ ما تقدم من الأخبار
-- باب: مقتدیوں کے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی روایات کا بیان اگرچہ امام بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہو، اور اس دلیل کا بیان جس سے سابقہ احادیث کا منسوخ ہونا ثابت ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 5078
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أنبأ هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ رَجَاءٍ، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَرْقَمَ بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ: سَافَرْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الشَّامِ فَسَأَلْتُهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْ قَالَ:" فَرَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَلَمَّا أَحَسَّ النَّاسُ سَبَّحُوا، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَتَأَخَّرُ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ بِيَدِهِ مَكَانَكَ، فَاسْتَفْتَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حَيْثُ انْتَهَى أَبُو بَكْرٍ مِنَ الْقُرْآنِ، وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمٌ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَائْتَمَّ أَبُو بَكْرٍ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَائْتَمَّ النَّاسُ بِأَبِي بَكْرٍ، فَمَا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ حَتَّى ثَقُلَ جِدًّا، فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، وَإِنَّ رِجْلَيْهِ لَتَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ، فَمَاتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُوصِ". وَبِمَعْنَاهُ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَائِشَةَ.
ارقم بن شرحبیل فرماتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ مدینہ سے شام تک سفر کیا، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے متعلق حدیث ذکر کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ آرام محسوس کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے سہارے نکلے۔ جب لوگوں نے محسوس کیا تو «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہا، ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ ”اپنی جگہ ٹھہرو۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن وہاں سے شروع کیا، جہاں سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چھوڑا تھا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کی اور لوگوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا کی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہوگئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے سہارے چلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کے ساتھ زمین پر لکیر بن رہی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت نہیں کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5078]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 1/356»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 5078 in Urdu