السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1010. -- باب: : " اجعلوا أئمتكم خياركم " وما جاء في إمامة ولد الزناء
-- باب: ”اپنے میں سے بہترین لوگوں کو اپنا امام بناؤ“ اور ولد الزنا کی امامت کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 5136
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: وَحَدَّثَنَا زَيْدٌ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: حَدَّثَنِي السَّفَرُ بْنُ نُسَيْرٍ الْأَسَدِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا قَالَ:" وَلَدُ الزِّنَاءِ شَرُّ الثَّلَاثَةِ، إِنْ أَبَوََيْهِ أَسْلَمَا وَلَمْ يُسَلِمْ هُوَ". فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ شَرُّ الثَّلَاثَةِ". وَهَذَا مُرْسَلٌ، وَرُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: مَا عَلَيْهِ مِنْ وِزْرِ أَبَوَيْهِ شَيْءٌ، قَالَ اللهُ تَعَالَى {لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: ١٦٤] تَعْنِي وَلَدَ الزِّنَاءِ. وَعَنِ الشَّعْبِيِّ، وَالنَّخَعِيِّ، وَالزُّهْرِيِّ فِي وَلَدِ الزِّنَاءِ أَنَّهُ يَؤُمُّ.
(الف) سفر بن نسیر اسدی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حرامی بچہ تین میں تیسرا شر ہے۔“ اس کے والدین تو مطیع ہوچکے، لیکن وہ مطیع نہ ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تینوں میں سے تیسرا شر ہے۔“
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے والدین کا اس پر کوئی بوجھ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [سورة الأنعام: 164] ”کوئی جان کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔“
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5136]
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے والدین کا اس پر کوئی بوجھ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [سورة الأنعام: 164] ”کوئی جان کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔“
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5136]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أبو داؤد 3963»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 5136 in Urdu