السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
127. -- باب: الاستنجاء بما يقوم مقام الحجارة في الإنقاء دون ما نهي عن الاستنجاء به
-- باب: صفائی حاصل کرنے میں پتھر کے قائم مقام اشیاء سے استنجاء کرنے کا بیان ماسوائے ان چیزوں کے جن سے استنجاء کی ممانعت وارد ہے
حدیث نمبر: 524
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ، عَنْ جَدِّهِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَتْبَعُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِدَاوَةٍ لِوُضُوئِهِ وَحَاجَتِهِ وَقَالَ: فَأَدْرَكَهُ يَوْمًا فَقَالَ:" مَنْ هَذَا؟". قَالَ: أَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ:" ابْغِنِي أَحْجَارًا أَسْتَنْفِضْ بِهَا، وَلَا تَأْتِنِي بِعَظْمٍ، وَلَا رَوْثٍ". فَأَتَيْتُهُ بِأَحْجَارٍ فِي ثَوْبِي، فَوَضَعْتُهَا إِلَى جَنْبِهِ حَتَّى إِذَا فَرَغَ وَقَامَ تَبِعْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا بَالُ الْعَظْمِ وَالرَّوْثِ؟ فَقَالَ:" أَتَانِي وَفْدُ نَصِيبِينَ فَسَأَلُونِي الزَّادَ، فَدَعَوْتُ اللهَ لَهُمْ أَنْ لَا يَمُرُّوا بِرَوْثَةٍ وَلَا بِعَظْمٍ إِلَّا وَجَدُوا عَلَيْهِ طَعَامًا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو اور قضائے حاجت کے لیے پانی کا برتن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لے جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک دن پایا تو پوچھا: ”کون ہے؟“ انہوں نے کہا: میں ابوہریرہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے پتھر تلاش کرو تاکہ میں استنجا کروں اور میرے پاس ہڈی اور گوبر نہ لانا۔“ میں اپنے کپڑوں میں پتھر لایا وہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں رکھ دیے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو گئے اور کھڑے ہوئے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے رہا۔
میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہڈی اور گوبر کا کیا معاملہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس نصیبین کا وفد آیا، انہوں نے مجھ سے زادِ راہ کا سوال کیا، میں نے ان کے لیے اللہ سے دعا کی کہ وہ جس گوبر اور ہڈی کے پاس سے گزریں اس پر کھانا پائیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 524]
میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہڈی اور گوبر کا کیا معاملہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس نصیبین کا وفد آیا، انہوں نے مجھ سے زادِ راہ کا سوال کیا، میں نے ان کے لیے اللہ سے دعا کی کہ وہ جس گوبر اور ہڈی کے پاس سے گزریں اس پر کھانا پائیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 524]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 3647»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 524 in Urdu