🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1043. جماع أبواب صلاة الإمام وصفة الأئمة -- باب: ما على الإمام من التخفيف
امام کی نماز اور ائمہ کے اوصاف سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: امام کے ذمے نماز کو کس قدر ہلکا پڑھانا لازم ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5273
فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ، فَذَكَرَ قِصَّةَ مُعَاذٍ وَتِلْكَ الْقِصَّةَ قَالَ: كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ فَرَجَعَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَصَلَّى بِهِمْ، وَصَلَّى خَلْفَهُ فَتًى مِنْ قَوْمِهِ، فَلَمَّا طَالَ عَلَى الْفَتَى صَلَّى وَخَرَجَ وَأَخَذَ بِخِطَامِ بَعِيرِهِ وَانْطَلَقَ، فَلَمَّا صَلَّى مُعَاذٌ ذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: إِنَّ هَذَا بِهِ لَنِفَاقٌ لَأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي صَنَعَ، وَقَالَ الْفَتَى: وَأَنَا لَأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي صَنَعَ، فَغَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ مُعَاذٌ بِالَّذِي صَنَعَ الْفَتَى، فَقَالَ الْفَتَى: يَا رَسُولَ اللهِ يُطِيلُ الْمُكْثَ عِنْدَكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُطِيلُ عَلَيْنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ؟"، وَقَالَ للْفَتَى:" كَيْفَ تَصْنَعُ أَنْتَ يَا ابْنَ أَخِي إِذَا صَلَّيْتَ؟" قَالَ: أَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَأَسْأَلُ اللهَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ، وَأَنِّي لَا أَدْرِي مَا دَنْدَنَتُكَ وَدَنْدَنَةُ مُعَاذٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي وَمُعَاذٌ حَوْلَ هَاتَيْنِ، أَوْ نَحْوَ ذَا" قَالَ: فَقَالَ الْفَتَى: وَلَكِنْ سَيَعْلَمُ مُعَاذٌ إِذَا قَدِمَ الْقَوْمُ وَقَدْ خُبِّرُوا أَنَّ الْعَدُوَّ قَدْ أَتَوْا، قَالَ: فَقَدِمُوا، فَاسْتُشْهِدَ الْفَتَى. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ لِمُعَاذٍ:" مَا فَعَلَ خَصْمِي وَخَصْمُكَ؟" قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، صَدَقَ اللهَ، وَكَذَبْتُ، اسْتُشْهِدَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا قصہ ذکر کیا، اس میں ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشا کی نماز پڑھتے تھے، پھر واپس آ کر اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے۔ ایک رات واپس آ کر نماز پڑھائی اور ان کی قوم کے ایک نوجوان نے ان کے پیچھے نماز پڑھی۔ جب نوجوان پر نماز لمبی ہوئی تو اس نے جماعت کو چھوڑا اور اپنی نماز پڑھی اور اپنے اونٹ کی نکیل پکڑی اور چلا گیا۔ جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہوئے تو انھیں بتایا گیا تو وہ کہنے لگے: ”یہ منافق ہے، میں اس کی خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دوں گا۔“ اور نوجوان کہنے لگا: ”میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دوں گا۔“ جو اس نے کیا۔ صبح کے وقت وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، جو نوجوان نے کیا تھا۔ نوجوان کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زیادہ دیر ٹھہرتے ہیں اور واپس آ کر ہمیں لمبی نماز پڑھاتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! کیا تو فتنہ باز ہے؟“ اور نوجوان سے پوچھا: ”اے بھتیجے! جب تو نماز پڑھتا ہے تو کیا کرتا ہے؟“ کہنے لگا: ”میں سورہ فاتحہ پڑھتا ہوں اور اللہ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے پناہ مانگتا ہوں۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور معاذ کی گنگناہٹ نہیں سمجھ پاتا۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اور معاذ ان دو کے ارد گرد ہیں“ یا اس کی مثل فرمایا۔ راوی کہتے ہیں: نوجوان نے کہا: ”لیکن معاذ جان لیں گے جب لوگ آئیں گے اور انھیں خبر دی جا چکی ہے کہ دشمن آ گیا ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ وہ آئے تو نوجوان شہید ہو گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”میرے اور تیرے ساتھ جھگڑا کرنے والے کا کیا بنا؟“ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اس نے اللہ سے سچ کر دکھایا اور میں نے غلط کہا، وہ شہید ہو گیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5273]

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 5273 in Urdu