🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
127. -- باب: الاستنجاء بما يقوم مقام الحجارة في الإنقاء دون ما نهي عن الاستنجاء به
-- باب: صفائی حاصل کرنے میں پتھر کے قائم مقام اشیاء سے استنجاء کرنے کا بیان ماسوائے ان چیزوں کے جن سے استنجاء کی ممانعت وارد ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 528
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالُوا: نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ دَاودَ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ: هَلْ كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ؟ قَالَ عَلْقَمَةُ: أَنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، فَقُلْتُ: هَلْ شَهِدَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَفَقَدْنَاهُ، فَالْتَمَسْنَاهُ فِي الْأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ، فَقُلْنَا: اسْتُطِيرَ أَوِ اغْتِيلَ فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا هُوَ جَاءَ مِنْ قِبَلِ حِرَاءَ. قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَدْنَاكَ، فَطَلَبْنَاكَ، فَلَمْ نَجِدْكَ، فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ. قَالَ:" أَتَانِي دَاعِي الْجِنِّ، فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ". قَالَ:" فَانْطَلَقَ بِنَا فَأَرَانَا آثَارَهُمْ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ"، وَسَأَلُوهُ الزَّادَ فَقَالَ:" كُلُّ عَظْمٍ ذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا يَكُونُ لَحْمًا، وَكُلُّ بَعْرَةٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ". فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَسْتَنْجُوا بِهِمَا، فَإِنَّهُمَا طَعَامُ إِخْوَانِكُمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى هَكَذَا..
عامر سے روایت ہے کہ میں نے علقمہ سے سوال کیا: کیا ابن مسعود رضی اللہ عنہ جنوں والی رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا جنوں والی رات تم میں سے کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں، لیکن ایک رات ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم نے آپ کو گم پایا تو ہم نے آپ کو وادیوں اور ٹیلوں میں تلاش کیا، پھر ہم نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اڑا لیا گیا ہے یا اغوا کر لیا گیا ہے، ہم نے وہ رات اتنی بری گزاری کہ کسی قوم نے ایسی بری رات نہ گزاری ہو گی۔ جب ہم نے صبح دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حراء کی طرف سے آ رہے تھے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گم پایا اور آپ کو بہت تلاش کیا، لیکن ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈ نہ سکے۔ اور ہم نے ایسی بری رات گزاری کہ کسی قوم نے ایسی بری رات نہ گزاری ہو گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جنوں کے داعی آئے تھے، میں ان کے ساتھ چلا گیا اور میں نے ان پر قرآن پڑھا“۔ راوی کہتا ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ساتھ لے کر گئے اور ہمیں ان کے نشانات اور ان کی آگ کے نشانات دکھائے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زادِ راہ کا سوال کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، تمہارے ہاتھ میں آئے گی تو گوشت سے بھرپور ہو گی، اور ہر مینگنی تمہارے جانوروں کا چارہ ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان دونوں سے استنجا نہ کرو کیونکہ یہ دونوں تمہارے (جن) بھائیوں کا کھانا ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 528]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 450»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 528 in Urdu