السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. -- باب طهارة باطنه بالدبغ كطهارة ظاهره وجواز الانتفاع به في المائعات كلها
-- باب: دباغت سے چمڑے کے ظاہر کی طرح اس کے باطن کے پاک ہونے اور تمام مائعات (بہنے والی اشیاء) میں اس سے فائدہ اٹھانے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 53
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ، حَدَّثَهُ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَعْلَةَ السَّبَائِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: إِنَّا نَكُونُ بِالْمَغْرِبِ فَتَأْتِينَا الْمَجُوسُ بِالْأَسْقِيَةِ فِيهَا الْمَاءُ، وَالْوَدَكُ فَقَالَ: اشْرَبْ. فَقُلْتُ: أَرَأْيٌ تَرَاهُ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" دِبَاغُهَا طَهُورُهَا". رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ وَغَيْرِهِ.
ابن وعلہ سبائی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ہم مغرب میں ہوتے ہیں تو ہمارے پاس مجوسی مشکیزے لاتے ہیں جن میں پانی اور چربی ہوتی ہے؟ انہوں نے فرمایا: پی لیا کرو۔ میں نے کہا: کیا یہ آپ کی رائے ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: «دِبَاغُهُ طَهُورُهُ» ”اس کو رنگنا ہی اس کا پاک کرنا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 53]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 366»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 53 in Urdu