السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
127. -- باب: الاستنجاء بما يقوم مقام الحجارة في الإنقاء دون ما نهي عن الاستنجاء به
-- باب: صفائی حاصل کرنے میں پتھر کے قائم مقام اشیاء سے استنجاء کرنے کا بیان ماسوائے ان چیزوں کے جن سے استنجاء کی ممانعت وارد ہے
حدیث نمبر: 534
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاودَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ الْمِصْرِيُّ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، أَنَّ شُيَيْمَ بْنَ بَيْتَانَ الْقِتْبَانِيَّ، أَخْبَرَهُ، عَنْ شَيْبَانَ الْقِتْبَانِيِّ، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: إِنْ كَانَ أَحَدُنَا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَأْخُذُ نِضْوَ أَخِيهِ عَلَى أَنَّ لَهُ النِّصْفَ مِمَّا يَغْنَمُ، وَلَنَا النِّصْفَ وَإِنْ كَانَ أَحَدُنَا لَيَطِيرُ لَهُ النَّصْلُ وَالرِّيشُ، وَلِلْآخَرِ الْقِدْحُ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ:" يَا رُوَيْفِعُ، لَعَلَّ الْحَيَاةَ سَتَطُولُ بِكَ بَعْدِي، فَأَخْبِرِ النَّاسَ أَنَّهُ مَنْ عَقَدَ لِحْيَتَهُ، أَوْ تَقَلَّدَ وَتَرًا، أَوِ اسْتَنْجَى بِرَجِيعِ دَابَّةٍ أَوْ عَظْمٍ فَإِنَّ مُحَمَّدًا مِنْهُ بَرِيءٌ".
سیدنا رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم میں سے کوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنے بھائی کا کمزور اونٹ اس شرط پر لیتا کہ غنیمت میں سے اس کے لیے آدھا ہے اور ہمارے لیے آدھا، اور ہم میں سے کسی کے حصے میں تیر کا پھل اور پر آتے اور دوسرے کے حصے میں تیر کی لکڑی، پھر مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے رویفع! شاید تمہاری زندگی میرے بعد لمبی ہو جائے، تو لوگوں کو بتا دینا کہ جس نے داڑھی کی گرہ لگائی یا تندی پہنی یا چوپائے کے گوبر یا ہڈی سے استنجا کیا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بری ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 534]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 36»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 534 in Urdu