السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1080. -- باب: من ترك القصر في السفر غير رغبة عن السنة
-- باب: جس نے سنت سے اعراض کی نیت کے بغیر سفر میں قصر کرنا چھوڑ دیا
حدیث نمبر: 5422
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْمَحَامِلِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوَابٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْصُرُ فِي الصَّلَاةِ وَيُتِمُّ، وَيُفْطِرُ وَيَصُومُ". قَالَ عَلِيٌّ: هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ. قَالَ الشَّيْخُ: وَلِهَذَا شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ دَلْهَمِ بْنِ صَالِحٍ وَالْمُغِيرَةِ بْنِ زِيَادٍ وَطَلْحَةِ بْنِ عَمْرٍو، وَكُلُّهُمْ ضَعِيفٌ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں قصر اور مکمل دونوں طرح پڑھتے تھے اور روزہ رکھتے اور افطار بھی کرتے۔
علی (دارقطنی) نے کہا: یہ سند صحیح ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: اس کے شواہد دلہم بن صالح، مغیرہ بن زیاد اور طلحہ بن عمرو کی روایات میں ہیں اور یہ سب ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5422]
علی (دارقطنی) نے کہا: یہ سند صحیح ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: اس کے شواہد دلہم بن صالح، مغیرہ بن زیاد اور طلحہ بن عمرو کی روایات میں ہیں اور یہ سب ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5422]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الدار قطني 2/189»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 5422 in Urdu