🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1092. -- باب: الاجتماع للصلاة في السفر
-- باب: سفر میں نماز کے لیے جمع ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5497
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: ح وَأنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَا: ثنا وَكِيعٌ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ:" أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَهُوَ بِالْأَبْطَحِ فِي قُبَّةٍ لَهُ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ، قَالَ: فَخَرَجَ بِلَالٌ بِوَضُوئِهِ، فَمِنْ نَائِلٍ وَنَاضِحٍ، قَالَ: فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ سَاقَيْهِ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ وَأَذَّنَ بِلَالٌ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَتَّبِعُ فَاهُ هَهُنَا وَهَهُنَا يَقُولُ: يَمِينًا وَشِمَالًا يَقُولُ: حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حِيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: ثُمَّ رُكِزَتْ لَهُ عَنَزَةٌ فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ الْحِمَارُ وَالْكَلْبُ لَا يُمْنَعُ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
عون بن ابی جحیفہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مکہ میں آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابطح نامی جگہ پر چمڑے کے بنے ہوئے سرخ خیمہ میں تھے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا پانی لے کر نکلے تو کوئی اس میں سے حاصل کر رہا تھا اور کوئی (دوسرے سے لے کر) چھڑک رہا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سرخ رنگ کی چادر تھی۔ گویا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیوں کی سفیدی کو دیکھ رہا ہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی، میں ان کے منہ کو ادھر ادھر (مڑتے) دیکھتا رہا، وہ دائیں بائیں (منہ پھیر کر) کہہ رہے تھے: «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» ”نماز کی طرف آؤ“، «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”کامیابی کی طرف آؤ“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نیزہ گاڑ دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر ظہر کی نماز دو رکعت پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گدھے اور کتے گزر رہے تھے، ان کو روکا نہیں گیا۔ پھر دو رکعت عصر کی پڑھائی۔ پھر مدینہ واپس آنے تک اس طرح دو دو رکعات پڑھتے رہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5497]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 503»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 5497 in Urdu