السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1100. -- باب: ذكر الأثر الذي روي في أن الجمع من غير عذر من الكبائر مع ما دلت عليه أخبار المواقيت
-- باب: اس اثر کا تذکرہ جو مروی ہے کہ بلا عذر نمازوں کو جمع کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے، نیز اس کی تائید جو نمازوں کے اوقات کی احادیث سے ہوتی ہے
حدیث نمبر: 5559
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" جَمْعُ الصَّلَاتَيْنِ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ مِنَ الْكَبَائِرِ". قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي سُنَنِ حَرْمَلَةَ: الْعُذْرُ يَكُونُ بِالسَّفَرِ وَالْمَطَرِ، وَلَيْسَ هَذَا بِثَابِتٍ عَنْ عُمَرَ، هُوَ مُرْسَلٌ. قَالَ الشَّيْخُ: هُوَ كَمَا قَالَ الشَّافِعِيُّ، وَالْإِسْنَادُ الْمَشْهُورُ لِهَذَا الْأَثَرِ مَا ذَكَرْنَا وَهُوَ مُرْسَلٌ، أَبُو الْعَالِيَةِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ قَدْ أَشَارَ الشَّافِعِيُّ إِلَى مَتْنِهِ فِي بَعْضِ كُتُبِهِ.
(الف) ابو العالیہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ بغیر عذر کے جمع کرنا کبیرہ گناہ ہے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عذر سفر اور بارش ہے، لیکن یہ بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے، یہ مرسل ہے۔
بات ویسے ہی ہے جیسے امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمائی، اس اثر کی مشہور سند وہی ہے جو ہم نے ذکر کی اور وہ مرسل ہے، ابو العالیہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5559]
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عذر سفر اور بارش ہے، لیکن یہ بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے، یہ مرسل ہے۔
بات ویسے ہی ہے جیسے امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمائی، اس اثر کی مشہور سند وہی ہے جو ہم نے ذکر کی اور وہ مرسل ہے، ابو العالیہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 5559]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن أبي شيبه 8253»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 5559 in Urdu