السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. -- باب طهارة باطنه بالدبغ كطهارة ظاهره وجواز الانتفاع به في المائعات كلها
-- باب: دباغت سے چمڑے کے ظاہر کی طرح اس کے باطن کے پاک ہونے اور تمام مائعات (بہنے والی اشیاء) میں اس سے فائدہ اٹھانے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 56
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَاتَتْ شَاةٌ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَاتَتْ فُلَانَةُ تَعْنِي الشَّاةَ؟ قَالَ:" فَلَوْلَا أَخَذْتُمْ ⦗٢٨⦘ مَسْكَهَا". قَالَتْ: نَأْخُذُ مَسْكَ شَاةٍ قَدْ مَاتَتْ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا قَالَ اللهُ تَعَالَى: {قُلْ لَا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ} وَإِنَّكُمْ لَا تَطْعَمُونَهُ، إِنَّمَا تَدْبُغُونَهُ فَتَنْتَفِعُونَ بِهِ". فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهَا فَسَلَخَتْ مَسْكَهَا، فَدَبَغَتْهُ، فَاتَّخَذَتْ مِنْهُ قِرْبَةً حَتَّى تَخَرَّقَتْ عِنْدَهَا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ام المومنین سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کی ایک بکری مر گئی، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! فلاں کی بکری مر گئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم نے اس کا چمڑا کیوں نہ اتارا؟“ انہوں نے عرض کیا: اس بکری کا چمڑا جو مر گئی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ﴾ [سورة الأنعام: 145] کہہ دیجیے: میں اس وحی میں جو میری طرف کی گئی ہے کسی کھانے والے پر کوئی چیز حرام نہیں پاتا جسے وہ کھائے سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو۔ تم اس کو کھاتے نہیں، تم اس کو رنگتے ہو اور اس سے فائدہ حاصل کرتے ہو۔“ انہوں نے اس (بکری) کی طرف کسی کو بھیجا، اس نے اس کا چمڑا اتارا اور اسے رنگ کر مشکیزہ بنایا حتیٰ کہ وہ ان کے پاس ہی ختم ہو گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 56]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن حبان 50415»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 56 in Urdu