السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1109. -- باب: الانفضاض
-- باب: (خطبے کے دوران) لوگوں کے منتشر ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 5627
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْآدَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ أَقْبَلَتْ عِيرٌ تَحْمِلُ الطَّعَامَ حَتَّى نَزَلُوا بِالْبَقِيعِ، فَالْتَفَتُوا إِلَيْهَا وَانْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مَعَهُ إِلَّا أَرْبَعُونَ رَجُلًا، أَنَا فِيهِمْ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا} [الجمعة: ١١] ". قَالَ عَلِيٌّ: لَمْ يَقُلْ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ إِلَّا أَرْبَعِينَ رَجُلًا غَيْرُ عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ حُصَيْنٍ وَخَالَفَهُ أَصْحَابُ حُصَيْنٍ فَقَالُوا: لَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا. قَالَ الشَّيْخُ: وَالْأَشْبَهُ أَنْ يَكُونَ الصَّحِيحُ رِوَايَةَ مَنْ رَوَى أَنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي الْخُطْبَةِ، وَقَوْلُ مَنْ قَالَ: نُصَلِّي مَعَهُ الْجُمُعَةَ أَرَادَ بِهِ الْخُطْبَةَ وَكَأَنَّهُ عَبَّرَ بِالصَّلَاةِ عَنِ الْخُطْبَةِ، وَحَدِيثُ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ يَدُلُّ عَلَى ذَلِكَ أَيْضًا، وَذَلِكَ يَرِدُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ غلے کا بھرا ہوا ایک قافلہ آگیا اور بقیع کے مقام پر پڑاؤ کیا۔ لوگ اس قافلہ کی طرف چلے گئے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف چالیس آدمی تھے، میں بھی ان میں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل کردی: ﴿وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا﴾ [سورة الجمعة: 11] ”اور جب وہ کسی تجارتی قافلہ یا کھیل کو دیکھتے ہیں تو تجھے کھڑا ہوا چھوڑ کر اس کی طرف چلے جاتے ہیں۔“
نوٹ: علی بن عاصم عن حصین، اس سند سے چالیس آدمیوں کا تذکرہ ہے، باقی حصین کے شاگرد اس کی مخالفت کرتے ہیں، وہ صرف بارہ کی تعداد کا ذکر کرتے ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: صحیح روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبے کی حالت میں تھے اور جس نے نماز کا تذکرہ کیا ہے وہ بھی اس سے مراد خطبہ ہی لیتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5627]
نوٹ: علی بن عاصم عن حصین، اس سند سے چالیس آدمیوں کا تذکرہ ہے، باقی حصین کے شاگرد اس کی مخالفت کرتے ہیں، وہ صرف بارہ کی تعداد کا ذکر کرتے ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: صحیح روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبے کی حالت میں تھے اور جس نے نماز کا تذکرہ کیا ہے وہ بھی اس سے مراد خطبہ ہی لیتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5627]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ الدارقطني 2/4»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 5627 in Urdu