السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1131. -- باب: : يحول الناس وجوههم إلى الإمام ويسمعون الذكر
-- باب: لوگ اپنے چہرے امام کی طرف پھیر لیں اور ذکر (خطبہ) سنیں
حدیث نمبر: 5710
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ:" جَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ فَقَالَ:" إِنَّمَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا" فَقَالَ رَجُلٌ: أَوَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ فَسَكَتَ، فَقِيلَ لَهُ: مَا شَأْنُكَ تُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُكَلِّمُكَ؟ وَرَأَيْنَا أَنَّهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ، فَأَفَاقَ يَمْسَحُ عَنْهُ الرُّحَضَاءَ، فَقَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ؟" وَكَأَنَّهُ حَمِدَهُ، فَقَالَ:" إِنَّهُ لَا يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ، وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ مَا يَقْتُلُ أَوْ يُلِمُّ، إِلَّا آكِلَةَ الْخَضِرِ، فَإِنَّهَا أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا امْتَلَأَتْ خَاصِرَتُهَا ثُمَّ اسْتَقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ، فَبَالَتْ وَثَلَطَتْ وَأَرْتَعَتْ، وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرٌ حُلْوٌ، وَنِعْمَ مَالُ الْمُسْلِمِ هُوَ لِمَنْ أَعْطَى مِنْهُ الْمِسْكِينَ وَالْيَتِيمَ وَابْنَ السَّبِيلِ". أَوْ كَالَّذِي قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَإِنَّهُ مَنْ يَأْخُذُهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَيَكُونُ عَلَيْهِ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ". أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ الدُّسْتُوَائِيِّ.
عطاء، ابوسعید رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنے بعد تمہارے اوپر خوف محسوس کرتا ہوں جو دنیا کی زیب و زینت تمہارے اوپر کھول دی جائے گی۔“ ایک شخص نے عرض کیا: بھلائی شر کو لائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے تو اس سے کہا گیا: تیری کیا حالت ہے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کلام کرتا ہے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم تجھ سے کلام نہیں کرتے، اور ہم نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وحی سے فراغت کے بعد پسینہ صاف کر رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سائل کدھر ہے؟“ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعریف کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلائی شر کو نہیں لاتی اور موسمِ بہار جو اُگاتا ہے اس میں سے کچھ ایسا ہوتا ہے جو ہلاک کر دیتا ہے یا ہلاکت کے قریب کر دیتا ہے، سوائے سرسبز چارہ کھانے والے جانور کے کہ وہ کھاتا ہے یہاں تک کہ جب اس کا پیٹ بھر جاتا ہے تو وہ سورج کی جانب منہ کر کے بیٹھ جاتا ہے، پھر پیشاب اور گوبر کرتا ہے پھر چرنا شروع کر دیتا ہے اور یہ مال سرسبز و شاداب اور میٹھا ہے۔ مسلم کا بہترین مال وہ ہے جو وہ کسی مسکین، یتیم اور مسافر کو دیتا ہے، جو اس کو بغیر حق کے لیتا ہے گویا کہ وہ کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا اور وہ اس پر قیامت کے دن وبال ہوگا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5710]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 6063»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 5710 in Urdu