🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1140. -- باب: الإمام يعتمد على عصا أو قوس أو ما أشبههما إذا خطب
-- باب: امام جب خطبہ دے تو لاٹھی یا کمان یا ان جیسی کسی چیز کا سہارا لے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5750
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْوَلِيدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ جَابِرٍ الزَّيَّاتُ، بِالرَّمْلَةِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مِرْشَلِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ نُمَيْرٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ رُزَيْقٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ حَزْنٍ الْكُلْفِيِّ قَالَ: أَتَيْنَاهُ فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَفَدْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابِعَ سَبْعَةٍ، أَوْ تَاسِعَ تِسْعَةٍ، فَأَذِنَ لَنَا عَلَيْهِ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَسَلَّمْنَا، فَقُلْنَا: زُرْنَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ لِتَدْعُوَ اللهَ لَنَا، أَوْ تَدْعُوَ لَنَا بِخَيْرٍ، قَالَ: فَدَعَا لَنَا بِخَيْرٍ، فَأَمَرَ بِنَا فَأُنْزِلْنَا وَأَمَرَ لَنَا بِشَيْءٍ مِنْ تَمْرٍ، وَالشَّأْنُ إِذْ ذَاكَ دُونٌ. قَالَ: فَأَقَمْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَّامًا شَهِدْنَا فِيهَا الْجُمُعَةَ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَكَّأُ عَلَى قَوْسٍ، أَوْ قَالَ عَلَى عَصًا، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِكَلِمَاتٍ خَفِيفَاتٍ طَيِّبَاتٍ مُبَارَكَاتٍ، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ لَنْ تُطِيقُوا، أَوْ إِنَّكُمْ لَنْ تَفْعَلُوا كُلَّ مَا أُمِرْتُمْ بِهِ، وَلَكِنْ سَدِّدُوا، وَقَارِبُوا، وَأَبْشِرُوا". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَغَيْرِهِ عَنْ شِهَابِ بْنِ خِرَاشٍ.
شعیب بن رزیق، حکم بن حزن کلفی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم ان کے پاس آئے، وہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کرنا شروع ہو گئے۔ فرمانے لگے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نو یا سات آدمیوں کا وفد بن کر آئے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اجازت دے دی۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس داخل ہوئے اور سلام کے بعد عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے آئے ہیں تاکہ آپ ہمارے لیے اللہ سے دعا کریں یا کہا: آپ ہمارے لیے بھلائی کی دعا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے بھلائی کی دعا کی اور ہماری مہمانی کا حکم دیا اور ہمارے لیے کھجوروں کا حکم دیا اور حالت اس سے کم تر تھی۔
ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قیام کیا، انہی ایام میں ہم جمعہ کے لیے حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کمان پر لاٹھی پر ٹیک لگائے ہوئے کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا پاکیزہ اور مبارک کلمات کے ساتھ کی۔ پھر فرمایا: ”اے لوگو! تم طاقت نہیں رکھتے“ یا فرمایا: ”تم ہرگز نہ کر سکو گے جس کا تم حکم دیے گئے ہو، لیکن تم سیدھے رہو اور میانہ روی اختیار کرو اور خوش ہو جاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5750]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابو داؤد 1096»

الحكم على الحديث: حسن

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 5750 in Urdu