السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1151. -- باب: : كيف يستحب أن تكون الخطبة
-- باب: خطبہ کس طرح کا ہونا مستحب ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 5806
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ قَالَ:" كُنْتُ رِدْفَ أَبِي عَلَى عَجُزِ الرَّاحِلَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ فَقَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللهِ، أِيُّ يَوْمٍ أُحَرِّمُ هَذَا؟" قَالُوا: هَذَا قَالَ:" فَأِيُّ شَهْرٍ أُحَرِّمُ؟" قَالُوا: هَذَا قَالَ:" فَأِيُّ بَلَدٍ أُحَرِّمُ؟" قَالُوا: هَذَا الْبَلَدُ قَالَ:" فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا".
نبیط بن شریط رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں سواری کی پشت پر اپنے والد کے پیچھے تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ کے پاس خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِيْنُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی تعریف کرتے ہیں اور ہم اسی سے مدد طلب کرتے ہیں اور بخشش طلب کرتے ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔“
”میں تمہیں اللہ کے خوف کی وصیت کرتا ہوں۔ کون سا دن سب سے زیادہ حرمت والا ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: یہی دن۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کون سا مہینہ زیادہ حرمت والا ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: یہی مہینہ زیادہ حرمت والا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کون سا شہر زیادہ حرمت والا ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: یہی شہر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے خون اور مال تمہارے آپس میں ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن، مہینے اور شہر کی حرمت ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5806]
”میں تمہیں اللہ کے خوف کی وصیت کرتا ہوں۔ کون سا دن سب سے زیادہ حرمت والا ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: یہی دن۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کون سا مہینہ زیادہ حرمت والا ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: یہی مہینہ زیادہ حرمت والا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کون سا شہر زیادہ حرمت والا ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: یہی شہر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے خون اور مال تمہارے آپس میں ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن، مہینے اور شہر کی حرمت ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5806]
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 5806 in Urdu