السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1154. -- باب: كلام الإمام في الخطبة
-- باب: خطبے کے دوران امام کی گفتگو کا بیان
حدیث نمبر: 5816
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي وَغَيْرُهُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ جَاءَ وَمَرْوَانُ يَخْطُبُ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَجَاءَ إِلَيْهِ الْأَحْرَاسُ لِيُجْلِسُوهُ، فَأَبَى أَنْ يَجْلِسَ حَتَّى صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الصَّلَاةَ أَتَيْنَاهُ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا سَعِيدٍ كَادَ هَؤُلَاءِ أَنْ يَفْعَلُوا بِكَ فَقَالَ:" مَا كُنْتُ لِأَدَعَهَا لِشَيْءٍ بَعْدَ شَيْءٍ رَأَيْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ رَجُلٌ وَهُوَ يَخْطُبُ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ فَقَالَ:" أَصَلَّيْتَ؟" قَالَ: لَا قَالَ:" فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ" قَالَ: ثُمَّ حَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَأَلْقَوْا ثِيَابًا فَأَعْطَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا الرَّجُلَ ثَوْبَيْنِ، فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الْأُخْرَى جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصَلَّيْتَ؟" قَالَ: لَا قَالَ:" فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ" ثُمَّ حَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَطَرَحَ أَحَدَ ثَوْبَيْهِ فَصَاحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" خُذْهُ" فَأَخَذَهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْظُرُوا إِلَى هَذَا جَاءَ تِلْكَ الْجُمُعَةَ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ فَأَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ فَطَرَحُوا ثِيَابًا فَأَعْطَيْتُهُ مِنْهَا ثَوْبَيْنِ، فَلَمَّا جَاءَتْ هَذِهِ الْجُمُعَةُ أَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ فَجَاءَ فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ" وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ بِمَعْنَى رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْهُ.
عیاض بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ آئے اور مروان خطبہ دے رہے تھے۔ ابو سعید رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور دو رکعات پڑھیں تو ان کے پاس شاہی محافظ آئے تاکہ ان کو بٹھائیں۔ انہوں نے انکار کر دیا، یہاں تک کہ دو رکعات ادا کیں۔ جب ہم نے نماز پوری کر لی تو ہم ان کے پاس آئے اور کہا: اے ابو سعید! قریب تھا کہ وہ آپ کو تکلیف دیتے۔ فرمانے لگے: میں نے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دیکھا ہے میں اس کو کبھی نہ چھوڑوں گا۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا، پراگندہ حالت والا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو نے نماز پڑھی ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو رکعت پڑھو۔“ راوی کہتے ہیں: پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ پر ابھارا تو انہوں نے کپڑے ڈال دیے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے دو کپڑے اس آدمی کو دے دیے۔ جب اگلا جمعہ آیا تو وہی آدمی آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تو نے نماز پڑھی ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو رکعت پڑھو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ پر ابھارا تو اس نے اپنے دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا دے دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے فرمایا: ”اسے لے لو۔“ اس نے لے لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف دیکھو، پچھلے جمعہ پراگندہ حالت میں آیا تو میں نے لوگوں کو صدقہ کے لیے فرمایا۔ لوگوں نے کپڑے دیے۔ ان کپڑوں سے دو کپڑے میں نے اس کو دے دیے۔ اس جمعہ آیا ہے تو میں نے لوگوں کو صدقہ کا حکم دیا تو اس نے ان دو کپڑوں میں سے ایک کو صدقہ میں دے دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5816]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 5693»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 5816 in Urdu