السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1158. -- باب: حجة من زعم أن الإنصات للإمام اختيار وأن الكلام فيما يعنيه أو يعني غيره والإمام يخطب مباح
-- باب: اس شخص کی دلیل جس نے یہ گمان کیا کہ امام کے لیے خاموش رہنا اختیاری ہے اور امام کے خطبہ دینے کے دوران اپنے یا کسی دوسرے کے مطلب کی بات کرنا مباح ہے
حدیث نمبر: 5839
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ السُّوسِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: أَصَابَتِ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَخْطُبُ النَّاسَ فَأَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ، فَادْعُ اللهَ لَنَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي يَدَيْهِ، وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا وَضَعَهَا حَتَّى ثَارَتْ سَحَابٌ كَأَمْثَالِ الْجِبَالِ ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنِ الْمِنْبَرِ حَتَّى رَأَيْتُ الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ فَمُطِرْنَا يَوْمَنَا ذَلِكَ وَمِنَ الْغَدِ وَمِنْ بَعْدِ الْغَدِ وَالَّذِي يَلِيهِ حَتَّى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى، فَقَامَ ذَلِكَ الْأَعْرَابِيُّ أَوْ قَالَ رَجُلٌ غَيْرُهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ تَهَدَّمَ الْبِنَاءُ وَجَاعَ الْعِيَالُ فَادْعُ اللهَ لَنَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" اللهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا" قَالَ: فَمَا يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ السَّحَابِ إِلَّا انْفَرَجَتْ حَتَّى صَارَتِ ⦗٣١٤⦘ الْمَدِينَةُ مِثْلَ الْحَوْبَةِ وَسَالَ الْوَادِي وَادِي قَنَاةَ شَهْرًا وَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ مِنَ النَّوَاحِي إِلَّا حَدَّثَ بِالْجَوْدِ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں لوگوں کو قحط سالی کا سامنا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک دیہاتی آیا اور اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مال تباہ ہو گئے اور لوگ بھوکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے دعا کریں“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھا لیے اور ہم نے آسمان پر بادل کا ٹکڑا بھی نہیں دیکھا تھا۔ اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ نیچے نہیں کیے تھے کہ آسمان پر پہاڑوں کی مانند بادل پیدا ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نہیں اترے کہ بارش شروع ہو گئی اور اس کے قطرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے گر رہے تھے، تو اس دن اور اگلے دن بارش ہوئی اور اس سے اگلے دن بھی، یہاں تک کہ دوسرے جمعہ تک۔ پھر وہی دیہاتی یا کوئی دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! گھر گر گئے اور لوگ بھوکے رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے دعا کریں“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا» ”اے اللہ! اس (بارش) کو ہم سے پھیر دے (ہمارے اردگرد برسا)۔“ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا تو بادل بالکل صاف ہو گئے اور مدینہ بادلوں سے خالی ہو گیا اور ایک ماہ تک ندی نالے بہتے رہے اور جو بھی مدینہ کے گرد و نواح سے آتا وہ بارش کے بارے میں بیان کرتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5839]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 890»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 5839 in Urdu