السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1168. -- باب: فضل المشي إلى الصلاة وترك الركوب إليها
-- باب: نماز کی طرف چل کر جانے اور اس کے لیے سواری ترک کر دینے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5878
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْجَرْجَرَائِيُّ، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، ثنا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَوْسُ بْنُ أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ غَسَّلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْتَسَلَ، ثُمَّ بَكَّرَ وَابْتَكَرَ، وَمَشَى وَلَمْ يَرْكَبْ، وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ، وَاسْتَمَعَ وَلَمْ يَلْغُ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ عَمَلُ سَنَةٍ، أَجْرُ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا"..
سیدنا اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”جس نے جمعہ کے دن سر کو دھویا اور غسل کیا، پھر صبح سویرے چلا، سوار نہیں ہوا اور امام کے قریب ہو کر غور سے خطبہ سنا اور فضول بات نہیں کی تو اس کو ایک قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں اور قیام کا ثواب ملے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجمعة/حدیث: 5878]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 5865»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 5878 in Urdu