🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1211. -- باب: أخذ السلاح في صلاة الخوف
-- باب: نمازِ خوف میں ہتھیار ساتھ رکھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q6017
قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلْيَأْخُذُوا أَسْلِحَتَهُمْ} [النساء: 102] .
اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿وَلْيَأْخُذُوا أَسْلِحَتَهُمْ﴾ ”اور انہیں چاہیے کہ وہ اپنے ہتھیار لیے رہیں۔“ [سورة النساء: 102] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: Q6017]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6017
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيُّ قَالَ::" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ صَلَاةُ الظُّهْرِ، وَعَلَى خَيْلِ الْمُشْرِكِينَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ الظُّهْرَ، قَالَ: فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّ لَهُمْ صَلَاةً بَعْدَ هَذِهِ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَبْنَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ، يَعْنُونَ صَلَاةَ الْعَصْرِ، فَنَزَلَ جَبْرَئِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَأَخْبَرَهُ، وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ فَلْتَقُمْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ مَعَكَ وَلْيَأْخُذُوا أَسْلِحَتَهُمْ} [النساء: ١٠٢] الْآيَةَ إِلَى آخِرِهَا، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَصَفَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفَّينِ، وَعَلَيْهِمُ السِّلَاحُ، فَكَبَّرَ وَالْعَدُوُّ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَبَّرُوا جَمِيعًا، وَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَالْآخَرُونَ قِيَامًا يَحْرُسُونَهُ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ إِلَى الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ وَسَجَدَ الْآخَرُونَ، ثُمَّ تَقَدَّمَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ، وَتَأَخَّرَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً أُخْرَى، فَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَالْآخَرُونَ قِيَامًا يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا فَرَغُوا سَجَدَ هَؤُلَاءِ، ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". قَالَ أَبُو عَيَّاشٍ:" فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الصَّلَاةَ مَرَّتَيْنِ، مَرَّةً بِعُسْفَانَ وَمَرَّةً فِي أَرْضِ بَنِي سُلَيْمٍ".
سیدنا ابو عیاش زرقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عسفان نامی جگہ پر تھے تو ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا اور خالد بن ولید مشرکین کے سالار تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ظہر کی نماز پڑھائی۔ مشرکین کہنے لگے: ”اس کے بعد والی نماز انھیں اپنے بیٹوں، اموال اور اپنی جانوں سے بھی زیادہ محبوب ہے۔“ وہ عصر کی نماز مراد لے رہے تھے تو ظہر و عصر کے درمیان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آ گئے۔ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ فَلْتَقُمْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ مَعَكَ وَلْيَأْخُذُوا أَسْلِحَتَهُمْ﴾ [سورة النساء: 102] ”جب آپ ان میں موجود ہوں تو ان کے لیے نماز قائم کریں اور ایک گروہ ان میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑا ہو اور وہ اپنے اسلحہ کو پکڑے ہوئے ہو۔“
نماز کا وقت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو صفیں بنائیں اور صحابہ کے پاس اسلحہ موجود تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہا اور دشمن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تھا۔ ان سب نے اللہ اکبر کہا اور سب نے رکوع کیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ صف جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملی ہوئی تھی سب نے سجدہ کیا اور دوسری صف کھڑی رہی، وہ پہرہ دے رہے تھے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے اور دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو پھر دوسروں نے سجدہ کیا۔ پھر یہ دوسری صف والے پہلی صف کی جگہ اور پہلی صف والے دوسری صف والوں کی جگہ چلے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دوسری رکعت پڑھائی۔ ان سب نے رکوع کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ صف جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملی ہوئی تھی نے سجدہ کیا اور دوسرے کھڑے پہرہ دیتے رہے۔ پھر جب وہ فارغ ہوئے تو ان لوگوں نے سجدہ کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا۔
سیدنا ابو عیاش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز دو مرتبہ پڑھائی۔ ایک مرتبہ عسفان اور دوسری مرتبہ بنو سلیم کی زمین میں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6017]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ ابو داؤد 1236»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6017 in Urdu