السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1215. -- باب: العدو يكون وجاه القبلة في صحراء لا يواريهم شيء في قلة منهم وكثرة من المسلمين
-- باب: دشمن صحرا میں قبلہ رخ ہو، کوئی چیز انہیں چھپا نہ رہی ہو، ان کی تعداد کم اور مسلمانوں کی زیادہ ہو
حدیث نمبر: 6025
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِي، أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ جَرِيرٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ الدَّبَّاسُ بِمَكَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ، وَعَلَى الْمُشْرِكِينَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَصَلَّيْنَا الظُّهْرَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: لَقَدْ أَصَبْنَا غِرَّةً، لَقَدْ أَصَبْنَا غَفَلَةً، لَوْ كُنَّا حَمَلَنَا عَلَيْهِمْ وَهُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْقَصْرِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَلَمَّا حَضَرْتِ الْعَصْرُ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ وَالْمُشْرِكُونَ أَمَامَهُ، فَصَفَّ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفٌّ، وَصَفَّ بَعْدَ ذَلِكَ الصَّفِّ صَفٌّ آخَرُ، فَرَكَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الْآخَرُونَ يَحْرُسُونَهُمْ فَلَمَّا صَلَّى هَؤُلَاءِ السَّجْدَتَيْنِ وَقَامُوا، سَجَدَ الْآخَرُونَ الَّذِينَ كَانُوا خَلْفَهُمْ، ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ إِلَى مَقَامِ الْآخَرِينَ، وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الْأَخِيرُ إِلَى مَقَامِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الْآخَرُونَ يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا جَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ سَجَدَ الْآخَرُونَ، ثُمَّ جَلَسُوا جَمِيعًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا، فَصَلَّاهَا بِعُسْفَانَ وَصَلَّاهَا يَوْمَ بَنِي سُلَيْمٍ". لَفْظُ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، وَحَدِيثُ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى بِمَعْنَاهُ، وَفِيهِ مِنَ الزِّيَادَةِ" فَأَخَذَ النَّاسُ السِّلَاحَ وَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفَّينِ مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةَ، وَالْمُشْرِكُونَ مُسْتَقْبِلُوهُمْ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبِّرُوا جَمِيعًا، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَرَفَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ" وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ، وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ جَرِيرٍ فَذَكَرَ فِيهِ سَمَاعَ مُجَاهِدٍ مِنْ أَبِي عَيَّاشٍ زَيْدِ بْنِ الصَّامِتِ الزُّرَقِيِّ، وَقَدْ رَوَاهُ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
(الف) سیدنا ابو عیاش زرقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عسفان نامی جگہ پر تھے اور مشرکین کے سپہ سالار خالد بن ولید تھے، ہم نے ظہر کی نماز پڑھی تو مشرکین کہنے لگے: ”ہم سے غفلت ہو گئی، اگر ہم ان پر حملہ کر دیتے جب وہ حالتِ نماز میں تھے“، تو ظہر و عصر کے درمیان قصر والی آیت نازل ہو گئی۔ جب عصر کا وقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ کی طرف رخ کر کے کھڑے ہوئے اور مشرکین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو ان سب نے رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور اس صف نے بھی سجدہ کیا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملی ہوئی تھی اور دوسری صف کھڑی پہرہ دے رہی تھی۔ جب پہلی صف والوں نے دو سجدے کر لیے اور کھڑے ہو گئے تو دوسری صف والوں نے سجدہ کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے تھے۔ پھر پہلی صف پیچھے ہٹی دوسری صف کی جگہ اور دوسری صف آگے بڑھی پہلی صف کی جگہ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو ان سب نے بھی رکوع کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور ان لوگوں نے جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھے، یعنی پہلی صف اور دوسرے کھڑے پہرہ دیتے رہے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ صف جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملی ہوئی تھی بیٹھ گئے تو دوسروں نے سجدہ کیا، پھر سب بیٹھ گئے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے ساتھ سلام پھیرا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ عسفان اور دوسری مرتبہ بنو سلیم میں یہ نماز پڑھائی۔
(ب) یحییٰ بن یحییٰ رحمہ اللہ کی حدیث میں کچھ الفاظ زائد ہیں کہ لوگوں نے اسلحہ پکڑا اور قبلہ کی طرف رخ کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنائیں اور مشرکین بھی ان کے سامنے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی، ان سب نے بھی تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو سب نے رکوع کیا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا تو سب نے سر اٹھائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور اس صف نے بھی سجدہ کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھی۔
یہ سند صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6025]
(ب) یحییٰ بن یحییٰ رحمہ اللہ کی حدیث میں کچھ الفاظ زائد ہیں کہ لوگوں نے اسلحہ پکڑا اور قبلہ کی طرف رخ کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنائیں اور مشرکین بھی ان کے سامنے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی، ان سب نے بھی تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو سب نے رکوع کیا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا تو سب نے سر اٹھائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور اس صف نے بھی سجدہ کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھی۔
یہ سند صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6025]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم 6017»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6025 in Urdu