السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1215. -- باب: العدو يكون وجاه القبلة في صحراء لا يواريهم شيء في قلة منهم وكثرة من المسلمين
-- باب: دشمن صحرا میں قبلہ رخ ہو، کوئی چیز انہیں چھپا نہ رہی ہو، ان کی تعداد کم اور مسلمانوں کی زیادہ ہو
حدیث نمبر: 6028
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ:" غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا مِنْ جُهَيْنَةَ، فَقَاتَلُوا قِتَالًا شَدِيدًا، فَلَمَّا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ قَالَ الْمُشْرِكُونَ: لَوْ مِلْنَا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً لَاقْتَطَعْنَاهُمْ، فَأَخْبَرَ جَبْرَئِيلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَقَالُوا: إِنَّهُ سَيَأْتِيهِمْ صَلَاةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنَ الْأَوْلَادِ، يَعْنِي: الْعَصْرَ فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ صَفَّنَا صَفَّينِ، وَالْمُشْرِكُونَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، قَالَ: فَكَبَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرْنَا وَرَكَعَ وَرَكَعْنَا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الْأَوَّلِ، فَلَمَّا قَامُوا سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي، ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الْأَوَّلُ، وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الثَّانِي، فَقَامُوا مَقَامَ الْأَوَّلِ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرْنَا، وَرَكَعَ وَرَكَعْنَا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الْأَوَّلُ، وَقَامَ الثَّانِي، فَلَمَّا سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي، ثُمَّ جَلَسُوا جَمِيعًا سَلَّمَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: ثُمَّ خَصَّ جَابِرٌ أَنْ قَالَ:" كَمَا يُصَلِّي أُمَرَاؤُكُمْ هَؤُلَاءِ". ⦗٣٦٧⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، وَاسْتَشْهَدَ الْبُخَارِيُّ بِرِوَايَةِ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ فِي ذَلِكَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے جہینہ سے غزوہ کیا اور لڑائی انتہائی سخت تھی۔ جب ہم نے ظہر کی نماز ادا کی تو مشرکین کہنے لگے: اگر ہم یک بارگی ان پر حملہ کریں اور ان کو کاٹ ڈالیں، تو اس کی خبر جبرائیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا تذکرہ ہمارے ساتھ کیا کہ ”وہ کہتے ہیں کہ عنقریب ایک نماز آئے گی جو ان کو ان کی اولادوں سے بھی زیادہ محبوب ہے“۔ جب نماز کا وقت ہوا تو ہم نے دو صفیں بنائیں اور مشرکین ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو ہم نے بھی تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو ہم نے بھی رکوع کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلی صف نے بھی سجدہ کیا۔ جب وہ کھڑے ہوئے تو دوسری صف نے سجدہ کیا اور پہلی صف پیچھے آ گئی اور دوسری صف آگے بڑھی۔ وہ پہلی کی جگہ پر کھڑے ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو ہم نے بھی تکبیر کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو ہم نے بھی رکوع کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلی صف نے بھی سجدہ کیا اور دوسری صف کھڑی رہی، پھر دوسری صف نے سجدہ کیا۔ پھر وہ سارے بیٹھے رہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے ساتھ سلام پھیرا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جیسے تمہارے امراء نماز ادا کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6028]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما سبوح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6028 in Urdu