السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1215. -- باب: العدو يكون وجاه القبلة في صحراء لا يواريهم شيء في قلة منهم وكثرة من المسلمين
-- باب: دشمن صحرا میں قبلہ رخ ہو، کوئی چیز انہیں چھپا نہ رہی ہو، ان کی تعداد کم اور مسلمانوں کی زیادہ ہو
حدیث نمبر: 6032
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" مَا كَانَتْ صَلَاةُ الْخَوْفِ إِلَّا ⦗٣٦٨⦘ كَصَلَاةِ أَحْرَاسِكُمْ هَؤُلَاءِ الْيَوْمَ خَلْفَ أَئِمَّتِكُمْ إِلَّا أَنَّهَا كَانَتْ، أَظُنُّهُ قَالَ: عَقِبًا، قَامَتْ طَائِفَةٌ وَهُمْ جَمِيعٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَجَدَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَجَدَ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامُوا مَعَهُ جَمِيعًا، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعُوا مَعَهُ جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدَ مَعَهُ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا أَوَّلَ مَرَّةٍ، وَقَامَ الْآخَرُونَ الَّذِينَ كَانُوا سَجَدُوا مَعَهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ، فَلَمَّا جَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِينَ سَجَدُوا مَعَهُ فِي آخِرِ صَلَاتِهِمْ سَجَدَ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ جَلَسُوا فَجَمَعَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّلَامِ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نمازِ خوف ایسے ہی تھی، جیسے آج کل تمہارے محافظوں کی نماز ہے، اپنے اماموں کے پیچھے۔ مگر یہ کہ وہ باری باری ہوتی تھی: ایک گروہ کھڑا رہتا، حالانکہ وہ سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (نماز میں) ہوتے، اور ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کرتا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے ہیں تو وہ گروہ جو کھڑا تھا خود سجدے کرتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیام فرماتے تو وہ سارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قیام کرتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع فرماتے تو وہ بھی سارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکوع کرتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ لوگ سجدہ کرتے جو پہلی مرتبہ کھڑے رہے اور وہ لوگ کھڑے رہے جنہوں نے پہلی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا تھا۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور وہ لوگ جنہوں نے آخری نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا تھا، انہوں نے سجدہ کیا جو کھڑے رہے۔ پھر وہ بیٹھے رہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام میں دونوں گروہوں کو جمع فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6032]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ احمد 1/265»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6032 in Urdu