🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1219. -- باب: من قال: صلى بكل طائفة ركعة ولم يقضوا
-- باب: اس شخص کا قول کہ امام ہر گروہ کو ایک رکعت پڑھائے اور وہ قضا (بقیہ رکعت پوری) نہ کریں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6052
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ صُهَيْبٍ الْفَقِيرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ فِي السَّفَرِ أَقْصُرُهُمَا؟ قَالَ جَابِرٌ:" إِنَّ الرَّكْعَتَيْنِ فِي السَّفَرِ لَيْسَتَا بِقَصْرٍ، إِنَّمَا الْقَصْرُ رَكْعَةٌ عِنْدَ الْقِتَالِ، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْقِتَالِ، وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَفَّ طَائِفَةٌ خَلْفَهُ، وَقَامَتْ طَائِفَةٌ وُجُوهُهَا قِبَلَ وُجُوهِ الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، وَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ إِنَّ الَّذِينَ صَلُّوا خَلْفَهُ انْطَلَقُوا فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلُّوا خَلْفَ ⦗٣٧٤⦘ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، وَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ فَسَلَّمَ وَسَلَّمَ الَّذِينَ خَلْفَهُ وَسَلَّمُوا أُولَئِكَ، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، وَلِلْقَوْمِ رَكْعَةً رَكْعَةً، ثُمَّ قَرَأَ يَزِيدُ: {وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ} [النساء: ١٠٢] ". قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا الَّذِي رُوِيَ عَنْ جَابِرٍ إِنْ كَانَ لَا يَحْتَمِلُ مَا ذَكَرْنَاهُ مِنَ التَّأْوِيلِ فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ خَبَرًا عَنْ صَلَاتِهِ فِي الْغَدَاةِ الَّتِي وَصَفَ هُوَ وَغَيْرُهُ صَلَاتَهُ فِيهَا، وَأَنَّهُمْ قَضَوْا رَكْعَتَهُمُ الْبَاقِيَةَ، وَيَكُونُ فِي حُكْمِ شَيْءٍ أَثْبَتَهُ بَعْضُ الرُّوَاةِ دُونَ بَعْضٍ، فَيُؤْخَذُ بِقَوْلِ الْمُثْبِتِ، وَالْأَصْلُ وَجُوبُ الْعَدَدِ حَتَّى يُثْبَتَ جَوَازُ النُّقْصَانِ عَنْهُ بِمَا لَا يَحْتَمِلُ التَّأْوِيلَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
یزید بن صہیب فقیر فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا سفر میں دو رکعتوں میں قصر ہے؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سفر میں دو رکعت میں قصر نہیں، لیکن قتال میں ایک رکعت قصر ہے۔ پھر فرمایا کہ وہ لڑائی کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور نماز کا وقت ہو گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے تو ایک گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنائی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک رکعت پڑھائی اور اس میں دو سجدے کیے۔ پھر وہ لوگ جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تھی، دوسرے گروہ کی جگہ چلے گئے۔ پھر دوسرا گروہ آیا اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک رکعت پڑھائی اور اس میں دو سجدے کیے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور سلام پھیرا۔ پھر ان لوگوں نے سلام پھیرا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے اور دوسروں نے بھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعت اور لوگوں کی ایک ایک رکعت ہوئی۔
پھر یزید نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَإِذَا كُنتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ﴾ [سورة النساء: 102] جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں موجود ہوں تو ان کے لیے نماز قائم کیجیے۔
شیخ فرماتے ہیں: ممکن ہے جو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی غزوہ میں نماز ہو، اسی طرح دوسروں نے بیان کیا کہ انہوں نے ایک رکعت اپنے طور پر پڑھی۔ بہرحال اثبات کو لیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6052]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ انظر ما قبله»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6052 in Urdu