السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1220. -- باب: من قال: قضت الطائفة الثانية الركعة الأولى عند مجيئها، ثم صلت الأخرى مع الإمام، ثم قضت الطائفة الأولى الركعة الثانية، ثم كان السلام
-- باب: اس شخص کا قول کہ دوسرا گروہ آنے پر اپنی پہلی رکعت پوری کرے، پھر دوسری رکعت امام کے ساتھ پڑھے، پھر پہلا گروہ اپنی دوسری رکعت پوری کرے، پھر سلام پھیرا جائے
حدیث نمبر: 6058
فَأَمَّا رِوَايَتُهُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّارُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِذَاتِ الرِّقَاعِ، فَصَدَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ صَدْعَيْنِ، فَصُفَّتْ طَائِفَةٌ وَرَاءَهُ، وَقَامَتْ طَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ، قَالَتْ: فَكَبَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرَتِ الطَّائِفَةُ الَّذِينَ صَلَّوْا خَلْفَهُ، ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعُوا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا، ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فَرَفَعُوا مَعَهُ، ثُمَّ مَكَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فَسَجَدُوا لِأَنْفُسِهِمُ السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ قَامُوا فَنَكَصُوا عَلَى أَعْقَابِهِمْ يَمْشُونَ الْقَهْقَرَى حَتَّى قَامُوا مِنْ وَرَائِهِمْ، وَأَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرُوا ثُمَّ رَكَعُوا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجْدَتَهُ الثَّانِيَةَ فَسَجَدُوا مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْعَتِهِ الثَّانِيَةِ، وَسَجَدُوا هُمْ لِأَنْفُسِهِمُ السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ قَامَتِ الطَّائِفَتَانِ جَمِيعًا فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَكَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً فَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعُوا مَعَهُ، كُلُّ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيعًا جِدًّا، لَا يَأْلُو أَنْ يُخَفِّفَ مَا اسْتَطَاعَ، ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمُوا، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَرَكَهُ النَّاسُ فِي صَلَاتِهِ كُلِّهَا". حَدِيثُهُمَا سَوَاءٌ فِي الْمَعْنَى وَقَدْ تَزِيدُ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى بِكَلِمَةٍ أَوْ نَحْوِهَا.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ذات الرقاع میں نمازِ خوف پڑھائی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تو ایک صف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھی اور دوسری صف دشمن کے سامنے تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا تو انہوں نے بھی «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنائی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو انہوں نے بھی رکوع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو انہوں نے سجدہ کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا تو انہوں نے بھی سر اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہے۔ پھر انہوں نے خود دوسرا سجدہ کیا، پھر وہ کھڑے ہوئے پھر اپنی ایڑیوں کے بل الٹے پاؤں چلے یہاں تک کہ ان کے پیچھے جا کر کھڑے ہو گئے۔ پھر دوسرا گروہ آیا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنائی۔ پھر انہوں نے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا۔ پھر انہوں نے رکوع کیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرا سجدہ کیا۔ انہوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو انہوں نے دوسرا سجدہ کیا۔ پھر دونوں گروہ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنائیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکوع کیا تو ان سب نے بھی رکوع کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو ان سب نے بھی سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا تو انہوں نے بھی سر اٹھایا، یہ تمام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جلدی کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تخفیف میں کوتاہی نہیں کی۔ اپنی طاقت کے مطابق ہلکی نماز پڑھائی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو انہوں نے بھی سلام پھیرا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور یقیناً لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام نماز میں شریک رہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6058]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ احمد 6/275»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6058 in Urdu