السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1226. -- باب: الرخصة للرجال في لبس الخز
-- باب: مردوں کے لیے خز (ریشم اور اون ملا ہوا کپڑا) پہننے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 6099
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدِينِيُّ، ثنا ابْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ الْمُغَلِّسُ بْنُ زِيَادٍ أَبُو الْوَلِيدِ الْعَامِرِيُّ، ثنا عَامِرُ بْنُ عُبَيْدَةَ الْبَاهِلِيُّ، قَاضِي الْبَصْرَةِ قَالَ:" خَرَجْتُ مَعَ نَفَرٍ مِنْ بَاهِلَةَ حَتَّى أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ فِيهِ: قُلْنَا: فَأَخْبِرْنَا عَنِ الْخَزِّ، قَالَ: فَأَخْرَجَ إِلَيْنَا جُبَّةً مِنْ خَزٍّ بَيْنَ قَمِيصَيْنِ، فَقَالَ:" هَا هُوَ ذَا أَلْبَسُهُ وَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ لَبِسْتُهُ، وَمَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَقَدْ لَبِسَهُ غَيْرَ عُمَرَ وَابْنِ عُمَرَ فَإِنَّهُمَا لَمْ يَلْبَسَاهُ". وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
عامر بن عبیدہ باہلی بصرہ کے قاضی ہیں، فرماتے ہیں: میں باہلہ سے ایک جماعت کے ساتھ نکلا، یہاں تک کہ ہم سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ انہوں نے حدیث ذکر کی۔ ہم نے کہا: ہمیں ریشم کے بارے میں خبر دیں۔ انہوں نے ایک ریشمی جبہ نکالا اور فرمایا: اسے میں پہنتا ہوں لیکن پسند نہیں کرتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم اس کو پہنا کرتے تھے، سوائے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 6099]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6099 in Urdu