السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1240. -- باب: الغدو إلى العيدين
-- باب: عیدین کے لیے صبح سویرے جانے کا بیان
حدیث نمبر: 6151
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْفِهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ:" إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَاقْصُرْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ؛ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، ثُمَّ الصَّلَاةُ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى يَنْتَصِفَ النَّهَارُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، انہوں نے حدیث بیان کی۔ اس میں ہے کہ: ”جب آپ صبح کی نماز پڑھ لیں تو سورج کے بلند ہونے تک (نماز سے) رک جائیں؛ کیونکہ وہ شیطان کے سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے، پھر وہ نماز ہے جس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور وہ مقبول بھی ہے یہاں تک کہ آدھا دن ہو جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6151]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ ابن خزيمه 1275»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6151 in Urdu