السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1247. -- باب: ذكر الخبر الذي روي في التكبير أربعا
-- باب: اس روایت کا تذکرہ جو چار تکبیروں کے متعلق مروی ہے
حدیث نمبر: 6183
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَابْنُ أَبِي زِيَادٍ، الْمَعْنَى قَرِيبٌ، قَالَا: ثنا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو عَائِشَةَ جَلِيسٌ لِأَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ سَأَلَ أَبَا مُوسَى وَحُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ:" كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ؟ فَقَالَ أَبُو مُوسَى:" كَانَ يُكَبِّرُ أَرْبَعًا تَكْبِيرَهُ عَلَى الْجَنَائِزِ"، فَقَالَ حُذَيْفَةُ:" صَدَقَ"، وَقَالَ أَبُو مُوسَى:" كَذَلِكَ كُنْتُ أُكَبِّرُ بِالْبَصْرَةِ حَيْثُ كُنْتُ عَلَيْهِمْ،" قَالَ: وَقَالَ أَبُو عَائِشَةَ وَأَنَا حَاضِرٌ لِسَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ". قَدْ خُولِفَ رَاوِي هَذَا الْحَدِيثِ فِي مَوْضِعَيْنِ، أَحَدُهُمَا فِي رَفْعِهِ، وَالْآخَرُ فِي جَوَابِ أَبِي ⦗٤٠٩⦘ مُوسَى، وَالْمَشْهُورُ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ أَنَّهُمْ أَسْنَدُوا أَمْرَهُمْ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، فَأَفْتَاهُ ابْنُ مَسْعُودٍ بِذَلِكَ، وَلَمْ يُسْنِدْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سعید بن العاص رضی اللہ عنہ نے ابو موسیٰ اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی میں تکبیرات کیسے کہا کرتے تھے؟ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار تکبیریں جنازہ پر کہا کرتے تھے اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابو موسیٰ نے سچ فرمایا۔ فرماتے ہیں کہ اسی طرح میں بصرہ میں تکبیریں کہا کرتا تھا، جب میں وہاں ہوتا تھا۔
اس حدیث کے راوی کی دو مقامات پر مخالفت کی گئی ہے: ایک اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع بیان کرنے میں اور دوسرا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے جواب میں۔ اس واقعے میں مشہور یہ ہے کہ انہوں نے اپنا معاملہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے انہیں اسی کا فتویٰ دیا اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6183]
اس حدیث کے راوی کی دو مقامات پر مخالفت کی گئی ہے: ایک اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع بیان کرنے میں اور دوسرا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے جواب میں۔ اس واقعے میں مشہور یہ ہے کہ انہوں نے اپنا معاملہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے انہیں اسی کا فتویٰ دیا اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6183]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد 1153»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6183 in Urdu