🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1253. -- باب: : يبدأ بالصلاة قبل الخطبة
-- باب: خطبہ سے پہلے نماز شروع کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6198
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً وَقِرَاءَةً، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، ثنا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيدٍ، فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، ثُمَّ قَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلَالٍ فَأَمَرَ النَّاسَ بِتَقْوَى اللهِ، وَحَثَّهُمْ عَلَى طَاعَتِهِ، وَوَعَظَهُمْ، وَذَكَّرَهُمْ، ثُمَّ مَضَى مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلَالٍ حَتَّى أَتَى النِّسَاءَ، فَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى اللهِ، وَحَثَّهُنَّ عَلَى طَاعَتِهِ، وَوَعَظَهُنَّ، وَذَكَّرَهُنَّ، وَقَالَ:" تَصَدَّقْنَ؛ فَإِنَّ أَكْثَرَكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ"، قَالَ: فَقَامَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ مِنْ سَفِلَةِ النِّسَاءِ سَفْعَاءَ الْخَدَّيْنِ، فَقَالَتْ: وَلِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ"، فَجَعَلْنَ يَنْزِعَنَّ مِنْ قِرَطِهِنَّ، وَقَلَائِدِهِنَّ، وَخَوَاتِمِهِنَّ، فَيَقْذِفْنَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ، يَتَصَدَّقْنَ بِهِ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے نماز بغیر اذان و اقامت کے پڑھائی، بعد میں خطبہ دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ پر ٹیک لگائی اور لوگوں کو تقویٰ و اطاعت کا حکم دیا اور انہیں وعظ و نصیحت فرمائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ پر ٹیک لگائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس آئے۔ ان کو تقویٰ کا حکم فرمایا، اطاعت پر ابھارا اور ان کو وعظ و نصیحت کی اور فرمایا: ”تم صدقہ کرو، تم میں سے اکثر جہنم کا ایندھن ہیں۔“ فرماتے ہیں کہ ایک ادنیٰ درجے کی عورت سیاہ رخساروں والی کھڑی ہوئی، کہنے لگی: ”اے اللہ کے رسول! کیوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لعنت زیادہ کرتی ہو اور خاوندوں کی ناشکری کرتی ہو۔“ تو عورتیں اپنے ہار، بالیاں اور انگوٹھیاں اتار کر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈال رہی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6198]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 885»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6198 in Urdu