🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1253. -- باب: : يبدأ بالصلاة قبل الخطبة
-- باب: خطبہ سے پہلے نماز شروع کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6203
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الدَّبَّاغُ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْأَضْحَى وَيَوْمَ الْفِطْرِ فَيَبْدَأُ بِالصَّلَاةِ، فَإِذَا صَلَّى صَلَاتَهُ وَسَلَّمَ قَامَ فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي مُصَلَّاهُمْ، فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِبَعْثٍ ذَكَرَهُ لِلنَّاسِ، أَوْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِغَيْرِ ذَلِكَ أَمَرَهُمْ بِهَا، وَكَانَ يَقُولُ:" تَصَدَّقُوا"، وَكَانَ أَكْثَرُ مَنْ يتَصَدَّقُ النِّسَاءُ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى كَانَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، فَخَرَجْتُ مُخَاصِرًا مَرْوَانَ حَتَّى أَتَيْنَا الْمُصَلَّى فَإِذَا كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ قَدْ بَنَى مِنْبَرًا مِنْ طِينٍ وَلَبِنٍ، وَإِذَا مَرْوَانُ يُنَازِعُنِي يَدَهُ كَأَنَّهُ يَجُرُّنِي نَحْوَ الْمِنْبَرِ، وَأَنَا أَجُرُّهُ نَحْوَ الْمُصَلَّى، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ مِنْهُ قُلْتُ: أَيْنَ الِابْتِدَاءُ بِالصَّلَاةِ؟ فَقَالَ: لَا يَا أَبَا سَعِيدٍ، قَدْ تُرِكَ مَا تَعْلَمُ، قُلْتُ: كَلَّا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا تَأْتُونَ بِخَيْرٍ مِمَّا أَعْلَمُ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ انْصَرَفَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضٍ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عید الفطر اور عید الاضحی کے لیے نکلتے تو خطبہ سے پہلے نماز پڑھتے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد کھڑے ہوتے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور لوگ اپنی جگہوں پر بیٹھے ہوتے تھے۔ اگر لشکر کی ضرورت ہوتی تو اس کا تذکرہ لوگوں سے فرماتے۔ اگر اس کے علاوہ کوئی ضرورت ہوتی تو اس کا حکم دیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”تم صدقہ کرو“ اور زیادہ صدقہ عورتیں کرتیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جاتے۔ یہ معاملہ ایسا ہی رہا کہ مروان بن حکم کا دور آیا۔ میں مروان بن حکم کے ساتھ نکلا، ہم عید گاہ آئے۔ وہاں کثیر بن صلت نے مٹی اور اینٹوں کا منبر بنایا ہوا تھا اور مروان اپنا ہاتھ چھڑوا رہے تھے گویا کہ وہ مجھے منبر کی طرف لے جا رہے ہوں اور میں اسے نماز کی طرف لے جا رہا تھا۔ جب میں نے دیکھا تو کہہ دیا کہ ابتدا نماز سے ہے۔ مروان کہنے لگا: اے ابو سعید! وہ طریقہ چھوڑ دیا گیا، جو آپ جانتے ہیں۔ میں نے کہا: ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم اس سے بہتر طریقہ نہیں لا سکتے جس کو میں جانتا ہوں۔ (یہ بات) تین مرتبہ (کہی)، پھر وہ چلے گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6203]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 913»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6203 in Urdu