السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1255. -- باب: من أباح أن يخطب على منبر أو على راحلة
-- باب: اس شخص کا قول جس نے منبر یا سواری پر خطبہ دینے کو مباح قرار دیا
حدیث نمبر: 6205
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوِسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" شَهِدْتُ صَلَاةَ الْفِطْرِ مَعَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَكُلُّهُمْ يُصَلِّيهَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ يَخْطُبُ بَعْدَ، قَالَ: فَنَزَلَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حِينَ يُجَلِّسُ الرِّجَالَ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ يَشُقُّهُمْ حَتَّى أَتَى النِّسَاءَ، وَمَعَهُ بِلَالٌ، فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ} [الممتحنة: ١٢] الْآيَةَ"، ثُمَّ قَالَ حِينَ فَرَغَ مِنْهَا:" أَنْتُنَّ عَلَى ذَلِكَ"، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ لَمْ يُجِبْهُ غَيْرُهَا مِنْهُنَّ: نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللهِ. لَا نَدْرِي حِينَئِذٍ مَنْ هِيَ، قَالَ:" تَصَدَّقْنَ"، فَبَسَطَ بِلَالٌ ثَوْبَهُ ثُمَّ قَالَ: هَلُمَّ فِدًا لَكُنَّ أَبِي وَأُمِّي، فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِيمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نمازِ فطر کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ حاضر ہوا، وہ خطبہ سے پہلے نماز پڑھتے تھے۔ اس کے بعد خطبہ ارشاد فرماتے تھے۔ راوی فرماتے ہیں کہ گویا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں منبر سے اترتے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اپنے ہاتھوں سے بٹھا رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے راستہ بناتے ہوئے عورتوں کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات تلاوت فرمائیں: ﴿یَا اَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ﴾ [سورة الممتحنة: 12] ”اے نبی! جب آپ کے پاس مومنہ عورتیں آئیں، آپ سے بیعت کرنے کے لیے۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”تم ایسے ہی رہنا۔“ صرف ایک عورت نے جواب دیا: ”ہاں، اے اللہ کے نبی!“ اس کے علاوہ کسی نے جواب نہیں دیا۔ ہم نہیں جانتے کہ وہ کون تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم صدقہ کرو۔“ تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کپڑا پھیلایا، پھر انہوں نے کہا: ”آؤ، اپنے صدقے دو، میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔“ تو وہ اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں پھینک رہی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6205]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 936»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6205 in Urdu