🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1255. -- باب: من أباح أن يخطب على منبر أو على راحلة
-- باب: اس شخص کا قول جس نے منبر یا سواری پر خطبہ دینے کو مباح قرار دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6207
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِ إِسْنَادِهِ. وَزَادَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ:" زَكَاةُ يَوْمِ الْفِطْرِ؟" قَالَ:" لَا، وَلَكِنَّهُ صَدَقَةٌ يَتَصَدَّقْنَ بِهَا حِينَئِذٍ، تُلْقِي الْمَرْأَةُ فَتَخَهَا وَيُلْقِينَ وَيُلْقِينَ"، قُلْتُ لِعَطَاءٍ:" أَتَرَى حَقًّا عَلَى الْإِمَامِ الْآنَ أَنْ يَأْتِيَ النِّسَاءَ حِينَ يَفْرُغَ فَيُذَكِّرُهُنَّ". قَالَ: أَيْ لَعَمْرِي، إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌ عَلَيْهِمْ، وَمَا لَهُمْ لَا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ؟". ⦗٤١٩⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَغَيْرِهِ بِهَذِهِ الزِّيَادَةِ. قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ وَجَابِرٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ:" فَلَمَّا فَرَغَ نَزَلَ فَأَتَى النِّسَاءَ"، يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ كَانَ عَلَى مُرْتَفَعٍ فَنَزَلَ. وَرَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، فَقَالَ فِي ابْتِدَائِهِ:" ثُمَّ قَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلَالٍ فَأَمَرَ بِتَقْوَى اللهِ ثُمَّ ذَكَرَ مُضِيَّهُ إِلَى النِّسَاءِ"، وَلَمْ يَذْكُرْ لَفْظَ النُّزُولِ، وَلَكِنْ فِي حَدِيثِ أَبِي بَكَرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَهُمْ بِمِنًى يَوْمَ النَّحْرِ عَلَى رَاحِلَتِهِ.
(الف) عبد الرزاق رحمہ اللہ نے اسی مثل بیان کیا ہے، لیکن فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا کہ وہ صدقہ فطر تھا؟ فرمایا: نہیں بلکہ عورتیں اپنی جانب سے صدقہ کر رہی تھیں۔ بس وہ ڈالے جا رہی تھیں۔ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: کیا اب بھی امام پر لازم ہے کہ وہ عورتوں کے پاس آئے، ان کو وعظ کرے جب خطبہ سے فارغ ہو جائے؟ فرمایا: میری عمر کی قسم! یہ ان پر حق تو ہے لیکن نہ جانے وہ اس کو کرتے نہیں ہیں۔
(ب) اس حدیث میں سیدنا ابن عباس اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہم کا یہ کہنا: ”جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو اترے اور عورتوں کے پاس آئے“ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بلند جگہ پر تھے، پھر اترے۔ عبدالملک بن ابی سلیمان نے اسے عطاء سے اور انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا تو اس کی ابتدا میں کہا: ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے اور اللہ سے تقویٰ کا حکم فرمایا“، پھر انہوں نے عورتوں کی طرف جانے کا تذکرہ کیا اور اترنے کا لفظ ذکر نہیں کیا، لیکن سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن منیٰ میں اپنی سواری پر ان کو خطبہ ارشاد فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6207]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 918»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6207 in Urdu