السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1263. -- باب: المأموم يتنقل قبل صلاة العيد وبعدها في بيته، والمسجد، وطريقه، والمصلى، وحيث أمكنه
-- باب: مقتدی کا عید کی نماز سے پہلے اور اس کے بعد اپنے گھر، مسجد، راستے، عید گاہ اور جہاں ممکن ہو نفل پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 6233
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ شُعْبَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ:" كُنْتُ أَقُودُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ إِلَى الْمُصَلَّى لِيُسَبِّحَ فِي الْمَسْجِدِ وَلَا يَرْجِعُ إِلَيْهِ".
(الف) ابن ابی ذئب، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام شعبہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو عید گاہ کی طرف لے کر آتا، وہ مسجد میں نفل ادا کرتے، پھر دوبارہ اس کی طرف واپس نہ آتے۔ (ب) ازرق بن قیس ان سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص کے بارے میں سنا کہ وہ عید کے دن امام کے نکلنے اور نماز سے پہلے نماز پڑھا کرتا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بندے پر اس کی نیکی کو واپس نہیں لوٹاتا، جو نیکی وہ اس کے لیے کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6233]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6233 in Urdu