🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1265. -- باب: خروج النساء إلى العيد
-- باب: عورتوں کے عید (کی نماز) کے لیے نکلنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6241
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ⦗٤٢٩⦘ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ إِسْحَاقُ: أنبأ وَقَالَ ابْنُ بَشَّارٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي: الثَّقَفِيَّ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ:" كُنَّا نَمْنَعُ عَوَاتِقَنَا أَنْ يَخْرُجْنَ فِي الْعِيدَيْنِ، فَقَدِمَتِ امْرَأَةٌ فَنَزَلَتْ قَصْرَ بَنِي خَلَفٍ، فَحَدَّثَتْ عَنْ أُخْتِهَا، وَكَانَ زَوْجُ أُخْتِهَا غَزَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ غَزْوَةً، قَالَتْ: وَأُخْتِي مَعَهُ فِي سِتِّ غَزَوَاتِ، قَالَتْ: وَكُنَّا نُدَاوُي الْكَلْمَى، وَنَقُومُ عَلَى الْمَرْضَى، فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ عَلَى إِحْدَانَا بَأْسٌ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا جِلْبَابٌ أَنْ لَا تَخْرُجَ؟ فَقَالَ:" لِتُلْبِسْهَا صَاحِبَتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا، فَتَشْهَدَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُؤْمِنِينَ"، فَلَمَّا قَدِمَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ سَأَلْتُهَا: هَلْ سَمِعْتِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ بَابَا وَكَانَتْ لَا تَذْكُرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَتْ: بَابَا، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: لِتَخْرُجِ الْعَوَاتِقُ، وَذَوَاتُ الْخُدُورِ، وَالْحُيَّضُ، فَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُؤْمِنِينَ، وَيَعْتَزِلْنَ الْحُيَّضُ الْمُصَلَّى، فَقَالَتْ حَفْصَةُ: فَقُلْتُ: الْحُيَّضُ، قَالَتْ: أَوَلَيْسَتْ تَشْهَدُ عَرَفَةَ وَتَشْهَدُ كَذَا وَتَشْهَدُ كَذَا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ.
ایوب رحمہ اللہ، حفصہ رحمہا اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم اپنی نوجوان عورتوں کو منع کرتے تھے کہ وہ عیدگاہ میں آئیں، پھر ایک عورت آئی اور وہ قصرِ بن خلف کے پاس ٹھہری، وہ اپنی بہن سے نقل فرماتی ہیں کہ ان کے خاوند نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر بارہ غزوات کیے، وہ فرماتی ہیں: میری بہن چھ غزوات میں ان کے ساتھ تھی، وہ فرماتی ہیں: ہم زخمیوں کی دوا کا بند و بست کرتی تھیں اور مریضوں کا خیال رکھتی تھیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: کیا ہمارے اوپر کوئی حرج ہے اگر کسی کے پاس چادر نہ ہو تو وہ باہر نہ نکلے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اپنی سہیلی کی چادر اوڑھ لے اور خیر اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر ہو۔“ جب سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں تو میں نے ان سے سوال کیا: کیا آپ نے یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، اور وہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ فرماتیں تو «بِأَبِي» ”میرے باپ آپ پر قربان ہوں“ کے کلمات ضرور کہتیں، میں نے ان سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جوان لڑکیاں، پردہ نشین عورتیں اور حائضہ عورتیں بھلائی اور دعا میں ضرور شامل ہوں، لیکن حائضہ عورتیں جائے نماز سے الگ رہیں۔“ حفصہ رحمہا اللہ فرماتی ہیں: میں نے (تعجب سے) کہا: کیا حائضہ عورتیں بھی؟ تو انہوں نے فرمایا: کیا وہ عرفات اور فلاں فلاں مقام پر حاضر نہیں ہوتیں؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 6241]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1569»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6241 in Urdu