السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1282. -- باب: : كيف يصلى في الخسوف
-- باب: گرہن میں نماز کیسے پڑھی جائے؟
حدیث نمبر: 6303
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَغَيْرُهُمَا قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَقَامَ فَكَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسَ وَرَاءَهُ، فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَقَالَ:" سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ"، ثُمَّ قَامَ فَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ:" سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ" ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ وَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ وَغَيْرِهِ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، مِنْ حَدِيثِ عَنْبَسَةَ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ وَزَادَ..
عروہ بن زبیر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد تشریف لائے اور کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنا لیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی قراءت کی۔ پھر تکبیر کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا رکوع کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر رکوع سے اٹھایا اور «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» فرمایا۔ پھر کھڑے ہوئے اور لمبی قراءت کی جو پہلی قراءت سے ذرا کم تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور لمبا رکوع کیا، لیکن یہ پہلے رکوع سے ذرا کم تھا۔ پھر کہا: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ»، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکوع اور چار سجدے مکمل کیے اور سورج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فارغ ہونے سے پہلے روشن ہو چکا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا، اللہ کی تعریف کی جس کا وہ اہل ہے، پھر فرمایا: ”سورج اور چاند یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، جب تم اس کو دیکھو تو نماز کے لیے جلدی کیا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6303]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 997»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6303 in Urdu