🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1282. -- باب: : كيف يصلى في الخسوف
-- باب: گرہن میں نماز کیسے پڑھی جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6312
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النِّجَادُ قَالَ: قُرِئَ عَلَى يَحْيَى بْنِ جَعْفَرٍ وَأنا أَسْمَعُ قَالَ: ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ:" انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى قِيلَ: لَا يَرْكَعُ. فَرَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ حَتَّى قِيلَ: لَا يَرْفَعُ. فَرَفَعَ فَأَطَالَ حَتَّى قِيلَ لَا يَسْجُدُ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ حَتَّى قِيلَ لَا يَرْفَعُ، ثُمَّ رَفَعَ فَجَلَسَ فَأَطَالَ الْجُلُوسَ حَتَّى قِيلَ لَا يَسْجُدُ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ رَفَعَ، وَفَعَلَ فِي الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى انْجَلَتِ الشَّمْسُ". فَهَذَا الرَّاوِي حَفِظَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو طُولَ السُّجُودِ وَلَمْ يَحْفَظْ رَكْعَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ، وَأَبُو سَلَمَةَ حَفِظَ رَكْعَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ وَحَفِظَ طُولَ السُّجُودِ عَنْ عَائِشَةَ..
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج گرہن لگ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا لمبا قیام کیا کہ لوگ کہنے لگے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع نہیں کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اتنا لمبا رکوع کیا کہ لوگ کہنے لگے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر نہیں اٹھائیں گے، جب رکوع سے سر اٹھا لیا تو کہا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ نہیں فرمائیں گے، پھر جب سجدہ کیا تو اتنا لمبا کہ لوگ کہنے لگے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے سے سر نہیں اٹھائیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور بیٹھ گئے، زیادہ دیر بیٹھے رہے، کہا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ نہیں فرمائیں گے، پھر سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا، پھر سجدے سے سر اٹھایا اور دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا، یہاں تک کہ سورج روشن ہو گیا۔
عطاء بن سائب رحمہ اللہ وغیرہ نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے لمبے سجود کا تذکرہ کیا، لیکن ایک رکعت میں دو رکوع کا تذکرہ یاد نہیں رہا۔
ابو سلمہ رحمہ اللہ کو ایک رکعت میں دو رکوع کا ذکر یاد تھا، لیکن لمبے سجود کا تذکرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6312]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن خزيمه 1392»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6312 in Urdu