السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
147. -- باب: الوضوء من مس الذكر
-- باب: شرمگاہ کو چھونے سے وضو ٹوٹنے کا بیان
حدیث نمبر: 632
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ" وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. وَرَوَى الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ الْقَدِيمِ عَنْ مُسْلِمٍ، وَسَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَيْنَا هُوَ يَؤُمُّ النَّاسَ إِذْ زَلَّتْ يَدُهُ عَلَى ذَكَرِهِ فَأَشَارَ إِلَى النَّاسِ أَنِ امْكُثُوا ثُمَّ خَرَجَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَجَعَ فَأَتَمَّ بِهِمْ مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ.
(الف) ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے اپنی شرمگاہ کو چھوا اس پر وضو واجب ہو گیا۔
(ب) ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک دن لوگوں کو نماز کی امامت کروا رہے تھے، اس دوران انہوں نے ہاتھ سے شرمگاہ کو چھوا تو لوگوں کو اشارہ کیا کہ اپنی جگہ ٹھہرے رہیں، پھر وہ گئے، وضو کیا، پھر واپس لوٹے اور باقی نماز مکمل کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 632]
(ب) ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک دن لوگوں کو نماز کی امامت کروا رہے تھے، اس دوران انہوں نے ہاتھ سے شرمگاہ کو چھوا تو لوگوں کو اشارہ کیا کہ اپنی جگہ ٹھہرے رہیں، پھر وہ گئے، وضو کیا، پھر واپس لوٹے اور باقی نماز مکمل کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 632]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك 92»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 632 in Urdu