السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1283. -- باب: من أجاز أن يصلى في الخسوف ركعتين في كل ركعة ثلاث ركوعات
-- باب: جس نے گرہن کی نماز دو رکعت پڑھنے کی اجازت دی اس طور پر کہ ہر رکعت میں تین رکوع ہوں
حدیث نمبر: 6320
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ الْغَضَائِرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الصُّولِيُّ إِمْلَاءً سَنَةَ أَرْبَعٍ وَثَلَاثِينَ وَثَلَاثِ مِائَةٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ:" كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّاسُ: إِنَّمَا كَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ سِتَّ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، كَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَرَأَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الثَّالِثَةَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الثَّانِيَةِ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَانْحَدَرَ لِلسُّجُودِ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ، لَيْسَ فِيهَا رَكْعَةٌ إِلَّا الَّتِي قَبْلَهَا أَطْوَلُ مِنْهَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ تَأَخَّرَ فِي صَلَاتِهِ فَتَأَخَّرَتِ الصُّفُوفُ مَعَهُ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَامَ فِي مَقَامِهِ وَتَقَدَّمْتُ الصُّفُوفُ مَعَهُ، فَقَضَى الصَّلَاةَ وَقَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ بَشَرٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ"..
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج گرہن ہو گیا۔ یہ وہ دن تھا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم فوت ہوئے تو لوگوں نے کہا: یہ ابراہیم کی موت کی وجہ سے ہوا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی قراءت کی۔ پھر اتنا ہی لمبا رکوع کیا۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا تو پہلی قراءت سے ذرا کم قراءت کی۔ پھر اتنا لمبا ہی رکوع کیا، جتنا قیام کیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ قراءت کی، جو دوسری مرتبہ والی قراءت سے کم تھی۔ پھر قیام کے برابر رکوع کیا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سجدے میں گر پڑے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کرنے سے پہلے تین رکوع کیے، ہر رکوع دوسرے سے لمبا ہی ہوتا ہے بلکہ جتنا قیام اتنا ہی لمبا رکوع فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں پیچھے ہٹے تو صفیں بھی پیچھے ہٹیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور اپنی جگہ پر کھڑے ہو گئے اور صفیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آگے بڑھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کی تو سورج روشن ہو چکا تھا۔ فرمایا: ”اے لوگو! سورج و چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی انسان کی موت کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے۔ جب تم کوئی ایسی چیز دیکھو تو نماز پڑھو یہاں تک کہ یہ روشن ہو جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6320]
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا تو پہلی قراءت سے ذرا کم قراءت کی۔ پھر اتنا لمبا ہی رکوع کیا، جتنا قیام کیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ قراءت کی، جو دوسری مرتبہ والی قراءت سے کم تھی۔ پھر قیام کے برابر رکوع کیا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سجدے میں گر پڑے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کرنے سے پہلے تین رکوع کیے، ہر رکوع دوسرے سے لمبا ہی ہوتا ہے بلکہ جتنا قیام اتنا ہی لمبا رکوع فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں پیچھے ہٹے تو صفیں بھی پیچھے ہٹیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور اپنی جگہ پر کھڑے ہو گئے اور صفیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آگے بڑھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کی تو سورج روشن ہو چکا تھا۔ فرمایا: ”اے لوگو! سورج و چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی انسان کی موت کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے۔ جب تم کوئی ایسی چیز دیکھو تو نماز پڑھو یہاں تک کہ یہ روشن ہو جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6320]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 904»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6320 in Urdu