السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1298. -- باب: من استحب الفزع إلى الصلاة فرادى عند الظلمة والزلزلة وغيرها من الآيات
-- باب: جس نے تاریکی، زلزلے اور دیگر نشانیوں (آفات) کے وقت انفرادی طور پر نماز کی طرف گھبرا کر لپکنے کو مستحب قرار دیا
حدیث نمبر: 6379
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عِكْرِمَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سَلَمُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ:" قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَاتَتْ فُلَانَةُ، بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَّ سَاجِدًا، فَقِيلَ لَهُ: تَسْجُدُ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَيْتُمْ آيَةً فَاسْجُدُوا" وَأِيُّ آيَةٍ أَعْظَمُ مِنْ ذِهَابِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". لَفْظُ حَدِيثِ الرُّوذْبَارِيِّ.
(الف) عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فلاں بیوی فوت ہو گئی ہے، وہ سجدے میں گر پڑے۔ کہا گیا کہ کیا آپ اس وقت سجدہ کرتے ہیں؟ تو فرمانے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کوئی نشانی دیکھو تو سجدہ کرو“ تو کون سی نشانی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے جانے سے بڑی ہو سکتی ہے؟
(ب) قاضی کی روایت میں ہے کہ ہم نے مدینہ میں ایک آواز سنی تو ابن عباس رضی اللہ عنہما مجھ سے کہنے لگے: اے عکرمہ! دیکھو یہ آواز کیسی ہے؟ فرماتے ہیں کہ میں گیا اور پایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا فوت ہو چکی ہیں۔
فرماتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا تو ان کو سجدہ کی حالت میں پایا حالانکہ ابھی سورج طلوع نہیں ہوا تھا۔
میں نے کہا کہ سبحان اللہ! ابھی سورج طلوع نہیں ہوا، آپ نے تو سجدہ بھی کر دیا تو فرمانے لگے: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ ”جب تم کوئی نشانی دیکھو تو سجدہ کرو“؟ تو اس سے بڑی نشانی کیا ہو سکتی ہے کہ امہات المؤمنین ہمارے درمیان سے جا رہی ہیں اور ہم زندہ ہیں؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6379]
(ب) قاضی کی روایت میں ہے کہ ہم نے مدینہ میں ایک آواز سنی تو ابن عباس رضی اللہ عنہما مجھ سے کہنے لگے: اے عکرمہ! دیکھو یہ آواز کیسی ہے؟ فرماتے ہیں کہ میں گیا اور پایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا فوت ہو چکی ہیں۔
فرماتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا تو ان کو سجدہ کی حالت میں پایا حالانکہ ابھی سورج طلوع نہیں ہوا تھا۔
میں نے کہا کہ سبحان اللہ! ابھی سورج طلوع نہیں ہوا، آپ نے تو سجدہ بھی کر دیا تو فرمانے لگے: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ ”جب تم کوئی نشانی دیکھو تو سجدہ کرو“؟ تو اس سے بڑی نشانی کیا ہو سکتی ہے کہ امہات المؤمنین ہمارے درمیان سے جا رہی ہیں اور ہم زندہ ہیں؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الخسوف/حدیث: 6379]
تخریج الحدیث: «جيد۔ ترمذي 3891»
الحكم على الحديث: جيد
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6379 in Urdu