🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1307. -- باب: ذكر الأخبار التي تدل على أنه دعا أو خطب قبل الصلاة
-- باب: ان احادیث کا تذکرہ جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے نماز سے پہلے دعا کی یا خطبہ دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6409
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: شَكَيَ النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُحُوطَ الْمَطَرِ، فَأَمَرَ بِمِنْبَرٍ، فَوُضِعَ لَهُ فِي الْمُصَلَّى، وَوَعَدَ النَّاسَ يَوْمًا يَخْرُجُونَ فِيهِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ، فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَكَبَّرَ وَحَمِدَ اللهَ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّكُمْ شَكَوْتُمْ جَدْبَ دِيَارِكُمْ، وَاسْتِيخَارَ الْمَطَرِ عَنْ إِبَّانِ زَمَانِهِ عَنْكُمْ، وَقَدْ أَمَرَكُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَدَعُوهُ، وَوَعَدَكُمْ أَنْ يَسْتَجِيبَ لَكُمْ، ثُمَّ قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الرَّحْمِنِ الرَّحِيمِ، مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ، اللهُمَّ أَنْتَ اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلَى حِينٍ"، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمْ يَتْرُكْ فِي الرَّفْعِ حَتَّى بَدَا بَيَاضُ إِبْطَيْهِ، ثُمَّ حَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ، وَقَلَبَ أَوْ حَوَّلَ رِدَاءَهُ، وَهُوَ رَافِعٌ يَدَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، وَنَزَلَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ⦗٤٨٧⦘ وَأَنْشَأَ اللهُ تَعَالَى سَحَابًا فَرَعَدَتْ وَبَرَقَتْ، ثُمَّ أَمْطَرَتْ بِإِذْنِ اللهِ تَعَالَى، فَلَمْ يَأْتِ مَسْجِدَهُ حَتَّى سَالَتِ السُّيُولُ، فَلَمَّا رَأَى سُرْعَتَهُمْ إِلَى الْكَنِّ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، وَقَالَ" أَشْهَدُ أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَأَنِّي عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ". أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ عَنْ هَارُونَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بارش کے قحط کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر رکھنے کا حکم دیا، تو اسے عید گاہ میں رکھا گیا اور لوگوں سے ایک مخصوص دن میں نکلنے کا وعدہ لیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے جب سورج کا کنارہ ظاہر ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور اللہ کی تکبیر و تحمید بیان کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اپنے علاقوں کی خشک سالی اور بارش کے اپنے وقت سے مؤخر ہو جانے کی شکایت کی ہے، حالانکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم اسے پکارو اور اس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تمہاری دعا قبول کرے گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ، مَالِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُ، اَللّٰهُمَّ أَنْتَ اللّٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلٰی حِيْنٍ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے، نہایت مہربان اور بہت رحم کرنے والا ہے، بدلے کے دن کا مالک ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اے اللہ! تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو غنی ہے اور ہم فقیر ہیں، ہم پر بارش نازل فرما اور جو کچھ تو نے نازل کیا ہے اسے ہمارے لیے قوت اور ایک مدت تک کا ذریعہ بنا۔“
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے اور انہیں مسلسل اٹھائے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہو گئی۔ پھر لوگوں کی طرف اپنی پیٹھ کو پھیرا اور اپنی چادر کو پلٹا اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں کو اٹھائے ہوئے تھے، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور منبر سے اتر کر دو رکعتیں پڑھائیں اور اللہ تعالیٰ نے بادل پیدا کر دیے اور وہ کڑکے اور چمکے، پھر وہ اللہ کے حکم سے برسے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مسجد تک نہیں آئے تھے کہ پرنالے بہنے لگے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ بارش سے بچنے کی جلدی کر رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، میں اس کا بندہ اور رسول ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6409]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابو داؤد»

الحكم على الحديث: حسن

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6409 in Urdu