السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1314. -- باب: ما يستحب من كثرة الاستغفار في خطبة الاستسقاء وأن يقول كثيرا: استغفروا ربكم إنه كان غفارا. يرسل السماء عليكم مدرارا
-- باب: خطبہ استسقاء میں کثرت سے استغفار کرنے اور کثرت سے یہ کہنے کے مستحب ہونے کا بیان کہ ”اپنے رب سے بخشش مانگو بے شک وہ بڑا بخشنے والا ہے وہ تم پر موسلادھار بارش برسائے گا“
حدیث نمبر: 6422
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَرَجِ أَبُو الْفَضْلِ الرِّيَاشِيُّ، ثنا الْأَصْمَعِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي وَجْزَةَ السَّعْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" خَرَجَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْتَسْقِي، فَجَعَلَ لَا يَزِيدُ عَلَى الِاسْتِغْفَارِ، فَقُلْتُ: أَلَا يَتَكَلَّمُ لِمَا خَرَجَ لَهُ؟ وَلَا أَعْلَمُ أَنَّ الِاسْتِسْقَاءَ هُوَ الِاسْتِغْفَارُ فَمُطِرْنَا".
ابو وجزہ سعدی اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بارش کی دعا کرنے کے لیے نکلے اور انہوں نے استغفار سے کچھ زیادہ نہ کیا، تو میں نے کہا کہ وہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم کس مقصد کے لیے نکلے؟ میں نہیں جانتا کہ استسقاء سے مراد استغفار ہے، مگر ہمیں بارش دے دی گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6422]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ ابي حاتم»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6422 in Urdu