السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1317. -- باب: الإمام يستسقي للناس فلم يسقوا، فيعود ثم يعود حتى يسقوا ولا يقول: قد دعوت، وقد دعوت، فلم يستجب لي
-- باب: امام لوگوں کے لیے بارش کی دعا کرے اور بارش نہ ہو تو وہ دوبارہ اور پھر بار بار دعا کرے یہاں تک کہ انہیں بارش عطا کر دی جائے اور وہ یہ نہ کہے کہ ”میں نے بار بار دعا کی لیکن میری دعا قبول نہیں ہوئی“
حدیث نمبر: 6429
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" لَا يَزَالُ يُسْتَجَابُ لِلْعَبْدِ مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ، مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ" قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا الِاسْتِعْجَالُ؟ قَالَ: يَقُولُ: قَدْ دَعَوْتُ، وَقَدْ دَعَوْتُ، فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي، فَيَسْتَحْسِرُ عِنْدَ ذَلِكَ، وَيَدَعُ الدُّعَاءَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مُخْتَصَرًا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کی دعا ہمیشہ قبول کی جاتی رہتی ہے جب تک وہ کسی گناہ کی یا قطع رحمی کی دعا نہیں کرتا، جب تک وہ جلدی کا مطالبہ نہیں کرتا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! «الِاسْتِعْجَالُ» ”جلدی کرنا“ کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ کہتا ہے: ”میں نے بہت دعا کی، میں نے بہت دعا کی، مگر میری دعا قبول نہیں کی گئی“، تب وہ تھک جاتا ہے اور دعا کو چھوڑ دیتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6429]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6429 in Urdu