السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1323. -- باب: كراهية الاستمطار بالأنواء
-- باب: ستاروں کی گردش سے بارش طلب کرنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 6450
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ قَالُوا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ⦗٤٩٩⦘ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةَ فِي إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ؛ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ:" هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ"؟ قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ:" أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي، وَكَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللهِ وَرَحْمَتِهِ، فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي، كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا؛ فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي، مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ عَنْ مَالِكٍ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، وَرَوَاهُ الزُّهْرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِمَعْنَاهُ وَكَأَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهُمَا.
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں صبح کی نماز پڑھائی، بادلوں کے نشانات (کیچڑ میں) جو رات سے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھرے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟“ تو انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بندوں میں سے کچھ نے ایمان کی حالت میں صبح کی ہے اور کچھ نے کفر کی حالت میں۔ سو جس نے کہا کہ ہم اللہ کے فضل اور رحمت سے بارش دیے گئے ہیں وہ مجھ پر ایمان لایا اور ستاروں کا انکار کرنے والا ہے اور جنہوں نے کہا کہ ہم فلاں فلاں وجہ سے بارش دیے گئے ہیں وہ میرا انکار اور ستاروں پر ایمان رکھنے والے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6450]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6450 in Urdu