السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1338. -- باب: ما ينبغي لكل مسلم أن يستعمله من قصر الأمل والاستعداد للموت فإن الأمر قريب
-- باب: ہر مسلمان کے لیے جو مناسب ہے کہ وہ امیدوں کو مختصر کرے اور موت کی تیاری کرے کیونکہ یہ معاملہ (موت) قریب ہے
حدیث نمبر: 6505
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَّ خُطُوطًا وَخَطَّ خَطًّا نَاحِيَةً، ثُمَّ قَالَ:" هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا؟ هَذَا مَثَلُ ابْنِ آدَمَ وَمَثَلُ الْمُتَمَنِّي، وَذَلِكَ الْخَطُّ الْأَمَلُ، بَيْنَمَا يَأْمُلُ إِذْ جَاءَهُ الْمَوْتُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ خط کھینچے اور ایک لکیر ایک طرف الگ کھینچی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟ یہ ابن آدم اور اس کی آرزوؤں کی مثال ہے اور یہ لکیر اس کی امید کی ہے جو وہ امیدیں کرتا ہے مگر اس کو موت آ لیتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6505]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6505 in Urdu