السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1338. -- باب: ما ينبغي لكل مسلم أن يستعمله من قصر الأمل والاستعداد للموت فإن الأمر قريب
-- باب: ہر مسلمان کے لیے جو مناسب ہے کہ وہ امیدوں کو مختصر کرے اور موت کی تیاری کرے کیونکہ یہ معاملہ (موت) قریب ہے
حدیث نمبر: 6508
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الشِّيرَازِيُّ الْفَقِيهُ وَأَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ لَابْتَغَى إِلَيْهِمَا مِثْلَهُ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللهُ عَلَى مَنْ تَابَ". قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" فَلَا أَدْرِي مِنَ الْقُرْآنِ هِيَ أَمْ لَا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَرُوِّينَا عَنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُمْ كَانُوا يَرَوْنَهُ مِنَ الْقُرْآنِ حَتَّى نَزَلَتْ {أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ} [التكاثر: ٢] إِلَى آخِرِهَا.
(٦٥٠٨) حضرت عبداللہ بن عباس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ اگر ابن آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ دو اور کی تلاش کرتا ہے اور ابن آدم کا پیٹ صرف مٹی ہی بھر سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسی کی طرف رجوع کرتا ہے جو توبہ کرتا ہے۔ ابن عباس کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ یہ بات قرآن میں سے ہے یا نہیں۔ ہمیں ابی بن کعب نے روایت بیان کی، وہ اسے قرآن میں سے خیال کرتے تھے، یہاں تک کہ یہ آیات نازل ہوئیں: ”الھکم التکاثر۔۔۔“ تمہیں مال کی کثرت نے ہلاک کردیا (مشغول کردیا) حتیٰ کہ تم قبروں کی زیارت کرنے لگے یعنی فوت ہوگئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 6508]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6508 in Urdu